محمد علی ادیب ۔۔۔ عشق کا دیکھا ہے اثر میں نے

عشق کا دیکھا ہے اثر میں نے
دل پہ جھیلا ہے اک غدر میں نے
درد سے کر لی دوستی آخر
جب نہیں پایا چارہ گر میں نے
ایک فیضِ نگاہِ یار، تجھے
کتنا ڈھونڈا ہے دربدر میں نے
یہ الگ بات، خود ہوا رُسوا
تْجھ کو رکھا ہے مْعتبر میں نے
یہ محبت کی چھاؤں بانٹے گا
جو لگایا ہے یہ شجر میں نے
ایک شاعر کی چاہتیں دے کر
کر دیا ہے تمھیں امر میں نے
سوگ دل کا تھا چار دن کا ادیب
اور نبھایا ہے عمر بھر میں نے

Related posts

Leave a Comment