عشق کا دیکھا ہے اثر میں نے
دل پہ جھیلا ہے اک غدر میں نے
درد سے کر لی دوستی آخر
جب نہیں پایا چارہ گر میں نے
ایک فیضِ نگاہِ یار، تجھے
کتنا ڈھونڈا ہے دربدر میں نے
یہ الگ بات، خود ہوا رُسوا
تْجھ کو رکھا ہے مْعتبر میں نے
یہ محبت کی چھاؤں بانٹے گا
جو لگایا ہے یہ شجر میں نے
ایک شاعر کی چاہتیں دے کر
کر دیا ہے تمھیں امر میں نے
سوگ دل کا تھا چار دن کا ادیب
اور نبھایا ہے عمر بھر میں نے
Related posts
-
جلیل عالی ۔۔۔ سامانِ شگفتِ جاں
سامانِ شگفتِ جاں ۔۔۔۔ مرے جاں تاب مہتابو! تمہاری زندگانی کی ہلالی رُت بڑی شدت سے... -
ارشد محمود ارشد ۔۔۔ دو غزلیں
عمر گزری ہے اسی طور ہماری ساری زندگی خاک نشینی میں گزاری ساری بغض و نفرت... -
فرہاد ترابی ۔۔۔ ریشم و اطلس و کم خواب نہیں دیکھتے ہیں
ریشم و اطلس و کم خواب نہیں دیکھتے ہیں ہم پہ الزام ہے ہم خواب نہیں...
