عشق کا دیکھا ہے اثر میں نے
دل پہ جھیلا ہے اک غدر میں نے
درد سے کر لی دوستی آخر
جب نہیں پایا چارہ گر میں نے
ایک فیضِ نگاہِ یار، تجھے
کتنا ڈھونڈا ہے دربدر میں نے
یہ الگ بات، خود ہوا رُسوا
تْجھ کو رکھا ہے مْعتبر میں نے
یہ محبت کی چھاؤں بانٹے گا
جو لگایا ہے یہ شجر میں نے
ایک شاعر کی چاہتیں دے کر
کر دیا ہے تمھیں امر میں نے
سوگ دل کا تھا چار دن کا ادیب
اور نبھایا ہے عمر بھر میں نے
Related posts
-
جوہرِ عباس ۔۔۔ بارِ غم سے جو طبیعت کو گراں پاتے ہیں
بارِ غم سے جو طبیعت کو گراں پاتے ہیں کاشف الکربؑ کی دہلیز پہ جُھک جاتے... -
راحت اندوری
یہ ہوائیں اڑ نہ جائیں لے کے کاغذ کا بدن دوستو مجھ پر کوئی پتھر ذرا... -
ڈاکٹر شاہد اشرف ۔۔۔ روح کی ڈھولک پہ شاداں، غلام حسین ساجد
روح کی ڈھولک پہ شاداں، غلام حسین ساجد موجودہ دور میں غزل اور آزاد نظم ہر...
