ہمیں بھی نقل مکانی سے خوف آتا ہے
جہاز ران ہیں پانی سے خوف آتا ہے
کسی کسی کو پتا ہے کہ رات بھیگ چکی
کسی کسی کو کہانی سے خوف آتا ہے
ہماری چھت کو کسی کم نظر کی آہ لگی
کہ اب تو اُٹھتی جوانی سے خوف آتا ہے
میں جیسے پھیلتا جاتا ہوں اپنے چاروں طرف
مجھے تو اپنی روانی سے خوف آتا ہے
وہ سانپ جس کا زمانے پہ خوف طاری ہے
اُسے بھی رات کی رانی سے خوف آتا ہے
