سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
Related posts
-
اکبر الہ آبادی
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں -
وسیم بریلوی
رات تو وقت کی پابند ہے ڈھل جائے گی دیکھنا یہ ہے چراغوں کا سفر کتنا... -
مجروح سلطان پوری
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
