اصغر علی بلوچ ۔۔۔ خواب گر لوگ خواب ہونے لگے

خواب گر لوگ خواب ہونے لگے
اب تو موسم عذاب ہونے لگے

اس کی آنکھیں تو اس کی آنکھیں ہیں
اب تو پانی شراب ہونے لگے

رقص کرنے لگیں جواں سوچیں
اور جذبے رباب ہونے لگے

حاشیے میں جو بار پاتے تھے
آج وہ انتساب ہونے لگے

ریگ زاروں پہ کیا عروج آیا
سب کے سب آفتاب ہونے لگے

راز دنیا پہ کھل گیا اصغر
وہ مرا انتخاب ہونے لگے

Related posts

Leave a Comment