حل نہیں تھا کوئی ، احباب کی رائیں تھیں بہت
اِک دِیا طاق میں تھا اور ہوائیں تھیں بہت
زندگی ! کیسے مقابل تِرے آ سکتا تھا
مَیں اکیلا تھا تِرے ساتھ بلائیں تھیں بہت
بعض کو زہر ہی تریاق ہے ، جیسے کہ ہمیں
عشق نے شانت کیا، ورنہ دوائیں تھیں بہت
واں مِرے جبہ و دستار بھلا کیا کرتے
محفلِ شوق میں رنگین قبائیں تھیں بہت
دل کی بیماری ہی لاحق ہُوئی ، اچھا ہی ہُوا
ورنہ تو اور بھی جاں لیوا وبائیں تھیں بہت
جرمِ اُلفت میں کٹا ، بوجھ تو اُترا خاورؔ
دیکھا جائے تو تِرے سر پہ بلائیں تھیں بہت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کام آتی نہیں کوئی بھی تدبیر کسی وقت
پھر خود ہی بدل جاتی ہے تقدیر کسی وقت
بوجھل سا بنا دیتی ہے کمرے کی فضا کو
دیوار سے اُتری ہُوئی تصویر کسی وقت
کاغذ کا سپاہی ہُوں ، قلم ہے مِری شمشیر
ردّی ہی بنے گی مِری جاگیر کسی وقت
مَیں نیند میں بھی جاگتا رہتا ہُوں کہ شاید
مِل جائے یہیں خواب کی تعبیر کسی وقت
صدیوں میں بھی ہو پاتا نہیں اُس کا ازالہ
ہو جائے جو انصاف میں تاخیر کسی وقت
مسماریِ بام و در و دیوار ہی خاورؔ
بن جاتی ہے اِک صورتِ تعمیر کسی وقت
