غلام حسین ساجد ۔۔۔ حصارِ خواب سے باہر مرا دھواں پہنچا

حصارِ خواب سے باہر مرا دھواں پہنچا مَیں رات نیند میں چلتے ہوئے کہاں پہنچا مِرے عمل نے مِرے روز و شب بدل ڈالے مجھے تو اپنی تگ و تاز سے زیاں پہنچا کسی بچھڑتے ہوئے خواب کی رفاقت کو مِرے یقین سے پہلے مِرا گماں پہنچا تمام رات درختوں نے انتظار کِیا پرندے لَوٹ کر آئے نہ کارواں پہنچا کسی نے ساری طلسمات کو بدل ڈالا مَیں بامِ یار تلک جب بھی پَرفشاں پہنچا مجھے تو وقت سے پہلے وہاں پہنچنا تھا مگر مَیں اور بھی تاخیر سے وہاں…

Read More

غلام حسین ساجد ۔۔۔ کہیں چراغ مِلا اور کہیں ستارا مِلا

کہیں چراغ مِلا اور کہیں ستارا مِلا سو مَیں جمالِ شبِ خواب سے دوبارہ مِلا نہیں تو اپنے ہی سائے پہ گِر پڑی ہوتی مِرے وجود سے دیوار کو سہارا مِلا پلٹ کے دیکھنا ممکن نہیں کہ وحشت میں کہاں کسی کو کسی یاد کا کنارا مِلا کسی طرح مجھے تقسیم کر دیا اُس نے کسی کو آدھا مِلا اور کسی کو سارا مِلا تمام رات جب آنکھوں میں کاٹ لی مَیں نے سحر کے وقت مجھے کوچ کا اشارہ مِلا عدو پہ فتح کی ساعت قریب جب آئی مِرا…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ غلام حسین ساجد

نعت سیّد الانبیاء آپ خیرالورا، اے رسولِ خدا، اے حبیبِ خدا آپ کی روشنی سے مُنّور ہُوا، میرے دل کا دِیا، اے حبیبِ خدا سبز گنبد کے سائے میں آتے ہوئے کچھ چراغوں کی سوغات پاتے ہوئے میرے لب پر فقط آپ کا نام تھا، بَر بنائے شفا، اے حبیبِ خدا ظلمتِ دہر کو چاک کرتے ہوئے، کعبۃُ اللہ کو پاک کرتے ہوئے آپ کے خلق سے آئنہ بن گیا، قلب ہر شخص کا، اے حبیبِ خدا آپ کے واسطے یہ زمانے بَنے، کہکشائیں بَنیں، کارخانے بَنے جن کے ہونے…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ غلام حسین ساجد

نعت کارِ دنیا سے دامن بچاتے ہوئے، آپ کے در سے خیرات پاتے ہوئے آپ کی روشنی میں نہاؤں گا مَیں، سبز گنبد کے سائے میں آتے ہوئے گاہے رُکتا ہوں حدّت بھری ریت پر، گاہے چلتا ہوں مستی میں بارِ دگر اِس لیے شوق سے دیکھتے ہیں مجھے چاند تارے مدینے کو جاتے ہوئے پھول کِھلنے لگے، پیڑ چلنے لگے، ساری دنیا کے موسم بدلنے لگے آپ کی مسکراہٹ امر ہو گئی نقشِ باطل کو دل سے مِٹاتے ہوئے آپ کے ہر عمل کا ہے ضامن خدا، آپ خیرالورا،…

Read More