اتنا خراب ہو کے بھی اچھا نہیں لگا
جیسا وہ چاہتا تھا میں ویسا نہیں لگا
جو دل کی بات تھی مرے دل میں ہی رہ گئی
میں چپ رہا کہ اس کا ارادہ نہیں لگا
جو خواب میں ہوا تھا چلو خواب ہی سہی
سن کر بتاؤ کیا تمھیں اچھا نہیں لگا؟
گر ہو سکے تو خود سے کبھی پوچھنا ضرور
کیسا تمھیں لگا ہوں میں کیسا نہیں لگا
مدت کے بعد آج ملا تو خوشی ہوئی
اور غم ہوا کہ آج وہ اپنا نہیں لگا
کیا کیجئے جناب نے سمجھا ہے عام شخص
ورنہ میں دنیا والوں کو کیا کیا نہیں لگا
بس ایک ہی کسک ہے جو دل سے نہیں گئی
باندھا تھا جس جگہ پہ نشانہ نہیں لگا
تم اتنے دور ہو کے بھی کتنے قریب ہو
میں لمحہ بھر بھی خود کو اکیلا نہیں لگا
جس کو بھی جو لگا ہوں مجھے اس سے کیا غرض
کیا کم ہے یہ صغیر کسی سا نہیں لگا
