تیرے جانے کا غم نہیں کرتے
تیری یادوں کو کم نہیں کرتے
ہاتھ پکڑا ہے ساتھ چلنے کو
تجھ کو مجبور‘ ہم نہیں کرتے
رات بھر دل اگرچہ رویا بہت
پھر بھی آنکھوں کو نم نہیں کرتے
تیری چُپ سے یہ جاگتے ارماں
شور اتنا‘ صنم! نہیں کرتے
تیری چاہت کو بھولنا چاہے
اپنے جی پر ستم نہیں کرتے
روک لیتے ہیں اشک پلکوں پر
تیرے قصے رقم نہیں کرتے
تم سے بڑھ کر ہو پیار اوروں سے
ہم کو تیری قسم، نہیں کرتے
