کسی کی یاد کے صندل میں آگ جلتی ہے
دلِ حزیں ترے جنگل میں آگ جلتی ہے
برس رہے ہیں بہت گرم اشک پلکوں سے
تمہاری آنکھ کے بادل میں آگ جلتی ہے
چمن بہار میں افسردہ ہے تمہارے لیے
گلوں میں، شاخ میں، کونپل میں آگ جلتی ہے
اگرچہ لفظ ہے بس ایک ہی محبت کا
لکھوں جو سرچ میں گوگل میں آگ جلتی ہے
کتاب جنگ و جدل کی لکھی مورخ نے
تو بابِ آخر و اول میں آگ جلتی ہے
تمہارے عشق کی جبرانؔ کیا کہانی ہے
ہر ایک لفظ سے ناول میں آگ جلتی ہے
Related posts
-
غلام حسین ساجد ۔۔۔ مَیں بہر صورت وہی ہوں اور وہی آئینہ ہے
مَیں بہر صورت وہی ہوں اور وہی آئینہ ہے صبح بھی آئینہ میری، رات بھی آئینہ... -
غلام حسین ساجد ۔۔۔ جہاں سے عکس مِلا، آئنہ وہیں سے مِلا
جہاں سے عکس مِلا، آئنہ وہیں سے مِلا نہیں کہ کوئی کہیں سے، کوئی کہیں سے... -
غلام حسین ساجد ۔۔۔ نشے کی جھونک میں آنکھوں کو مَل دیا سرِ شام
نشے کی جھونک میں آنکھوں کو مَل دیا سرِ شام وہ کوئی خواب تھا جس کو...
