نہیں انسان کے کوئی برابر
ملائک کب ہوئے ہیں اس کے ہم سر
کوئی آئے جواں ایسا دِلاور
بچا لے آدمیت کو جو آ کر
جہاں تنہائیاں ہوں اور اندھیرا
کہیں اُس کو بھلا ہم دشت یا گھر
عجب اک خوف کی زد میں ہوں کب سے
کہیں مجھ کو نہ لے ڈوبے مِرا ڈر
لیے پھرتا ہوں جو شانوں پہ اپنے
نہیں میرا مجھے لگتا ہے وہ سر
طلب میری کرم کی بھیک ہر پل
درِ اقدسؐ کا ہوں ادنیٰ گداگر
اُبھر کر جا لگا آخر کنارے
تھا جو بھی بحرِ الفت کا شناور
بَلا کا آفریں آشفتہ سر ہے
اگرچہ لوگ کہتے ہیں سخن وَر
Related posts
-
افق لکھنوی ۔۔۔ نہ مثلِ شمع ارماں قتل کا یاں عمر بھر نکلا
نہ مثلِ شمع ارماں قتل کا یاں عمر بھر نکلا ادھر سر اس نے کاٹا ایک... -
آہ سنبھلی ۔۔۔ یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیں
یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیں محبتیں نہیں رہتیں گمان رہتے ہیں خدا کرے کہ... -
سیف الدین سیف ۔۔۔ سب سے چھپا کے درد جو وہ مسکرا دیا
سب سے چھپا کے درد جو وہ مسکرا دیا اس کی ہنسی نے آج مجھے تو...
