رشید آفرین ۔۔۔ نہیں انسان کے کوئی برابر

نہیں انسان کے کوئی برابر
ملائک کب ہوئے ہیں اس کے ہم سر
کوئی آئے جواں ایسا دِلاور
بچا لے آدمیت کو جو آ کر
جہاں تنہائیاں ہوں اور اندھیرا
کہیں اُس کو بھلا ہم دشت یا گھر
عجب اک خوف کی زد میں ہوں کب سے
کہیں مجھ کو نہ لے ڈوبے مِرا ڈر
لیے پھرتا ہوں جو شانوں پہ اپنے
نہیں میرا مجھے لگتا ہے وہ سر
طلب میری کرم کی بھیک ہر پل
درِ اقدسؐ کا ہوں ادنیٰ گداگر
اُبھر کر جا لگا آخر کنارے
تھا جو بھی بحرِ الفت کا شناور
بَلا کا آفریں آشفتہ سر ہے
اگرچہ لوگ کہتے ہیں سخن وَر

Related posts

Leave a Comment