نہیں انسان کے کوئی برابر
ملائک کب ہوئے ہیں اس کے ہم سر
کوئی آئے جواں ایسا دِلاور
بچا لے آدمیت کو جو آ کر
جہاں تنہائیاں ہوں اور اندھیرا
کہیں اُس کو بھلا ہم دشت یا گھر
عجب اک خوف کی زد میں ہوں کب سے
کہیں مجھ کو نہ لے ڈوبے مِرا ڈر
لیے پھرتا ہوں جو شانوں پہ اپنے
نہیں میرا مجھے لگتا ہے وہ سر
طلب میری کرم کی بھیک ہر پل
درِ اقدسؐ کا ہوں ادنیٰ گداگر
اُبھر کر جا لگا آخر کنارے
تھا جو بھی بحرِ الفت کا شناور
بَلا کا آفریں آشفتہ سر ہے
اگرچہ لوگ کہتے ہیں سخن وَر
Related posts
-
بسمل صابری ۔۔۔ حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور
حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور لب کہتے ہیں کچھ اور انھیں... -
بسمل صابری ۔۔۔ سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا
سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا جب آئی شب ترے خوابوں نے مجھ... -
حفیظ ہوشیارپوری ۔۔۔ محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے میں...
