اظہر عباس ۔۔۔ مت کہہ مجھے بیکار، مرے یار ، انا الاشک

مت کہہ مجھے بیکار، مرے یار ، انا الاشک
اک روز میں ہوں گا تجھے درکار ، انا الاشک

میں اس کے شہیدوں کی ہوں تاریخ کا راوی
ہوں خواب قبیلے کا عزادار ، اناالاشک

پھر آنکھ سے بھی دیس نکالا مرا آیا
بس اتنا بتایا تھا کہ سرکار ، انالاشک

کیوں اتنا گھمنڈ آپ کو ہے ضبط و انا پر
کر جاؤں گا مسمار یہ دیوار، اناالاشک

یہ آنکھ کی سرحد بھی بدل دیتی ہے سب کچھ
اس پار انا الحزن تو اُس پار ، اناالاشک

یہ سارے سخنور مجھے بس غور سے دیکھیں
ہوں میں بھی فصیحائی کا شہکار ، انا الاشک

Related posts

Leave a Comment