ندیم ملک ۔۔۔ دو غزلیں

ناز نخروں سے جو پلی ہوئی ہے
اسی پاگل سے دل لگی ہوئی ہے

پاؤں زخمی ہوئے ہیں پانی میں
کیسی نادان زندگی ہوئی ہے

آپ سے کوئی واسطہ نہیں تھا
آپ نے پھر بھی بات کی ہوئی ہے

شہر میں نام گونجتا ہے مرا
آپ سے جب سے دوستی ہوئی ہے

پھول ، اور سنگ و خشت ہیں یکجا
آئنے میں نظر کری ہوئی ہے
رنگ تتلی کے ہو گئے مدھم
چاند پر آنکھ جم گئی ہوئی ہے

میری چادر میں چھید تھے پھر بھی
آپ نے سر پہ وہ تنی ہوئی ہے

۔۔۔۔۔

جیسے میں کر رہا ہوں تری بات گول مول
کرتا ہے کوئی ایسے بھی جذبات گول مول

فی الحال تنگ دست ہوں اور بے شمار ہوں
فی الحال مت دکھائیے حالات گول مول

کردار ہی نہیں ہے کہانی میں اب کی بار
رکھو نہ اب کی بار ملاقات گول مول
اچھا ہوا جو تو نے مجھے چھوڑ ہی دیا
ویسے بھی کر رہا تھا میں ہر بات گول مول

لایا گیا تھا کھینچ کے اس واسطے ندیم
مقتل میں آ رہا تھا کوئی ہات گول مول

Related posts

Leave a Comment