اے شاہِ شہاں تیرے در پہ کھڑا ہوں
علی کے گھرانے کا ادنیٰ گدا ہوں!
مری چشمِ تر میں یہ آنسو نہیں ہیں
میں آبِ نظر سے وضو کر رہا ہوں
مرے مولا مجھ کو بھی توفیق دے دے
میں طیبہ کی گلیوں کو تکنے چلا ہوں
وفورِ الم سے بدن تر بتر ہے!
بشاشت سے گرچہ میں سب سے ملا ہوں
ہر اک موج اب بھی یہ چِلا رہی ہے
میں اصغر کے تشنہ لبوں کی صدا ہوں
مدینے میں ہوں ختم سانسیں یہ خالق
لیے آرزو سوئے طیبہ گیا ہوں!
