اٹھا دو پردہ دکھا دو جلوہ کہ نور باری حجاب میں ہے
زمانہ تاریک ہو رہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے
انھی کی بو مایۂ سمن ہے انھی کا جلوہ چمن چمن ہے
انھی سے گلشن مہک رہے ہیں انھی کی رنگت گلاب میں ہے
وہ گل ہیں لب ہائے نازک ان کے ہزاروں جھڑتے ہیں پھول ان سے
گلاب گلشن میں دیکھے بلبل یہ دیکھ گلشن گلاب میں ہے
کھڑے ہیں منکر نکیر سر پر نہ کوئی حامی نہ کوئی یاور
بتا دو آ کر مرے پیمبر کہ سخت مشکل جواب میں ہے
خدائے قہار ہے غضب پر کھلے ہیں بدکاریوں کے دفتر
بچا لو آ کر شفیعِ محشر تمہارا بندہ عذاب میں ہے
گنہ کی تاریکیاں ہیں چھائیں امنڈ کے کالی گھٹائیں آئیں
خدا کے خورشید مہر فرما کہ ذرہ بس اضطراب میں ہے
کریم اپنے کرم کا صدقہ لئیمِ بے قدر کو نہ شرما
تو اور رضا سے حساب مانگے رضا بھی کوئی حساب میں ہے
