میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر گواہی دی تو عدالت میں مارا جائوں گا
Read MoreMonth: 2021 جولائی
رانا سعید دوشی ۔۔۔ کر نہ بیٹھوں نئی خطا میں بھی
کر نہ بیٹھوں نئی خطا میں بھی عشق میں ہوں نیا نیا میں بھی بخشوا لوں کہا سنا میں بھی ہونے والا ہوں دشت کا میں بھی وہ کھڑا تھا کواڑ کے پیچھے اس پہ پورا نہیں کھلا میں بھی عشق دونوں ہی کر نہیں پائے پارسا تو بھی پارسا میں بھی اے ہوس! تو بھی کیا طوائف ہے تیری باتوں میں آ گیا میں بھی کون سکتے میں بول سکتا ہے بول سکتا تو بولتا میں بھی ساری دنیا تو ساری دنیا ہے ساری دنیا ۔۔۔ مراد کیا۔۔۔ میں…
Read Moreرانا سعید دوشی ۔۔۔ کفن میں جیب ہوتی تو
کفن میں جیب ہوتی تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کفن میں جیب ہوتی تو مرے پسماندگان مجھ کو کبھی مرنے نہیں دیتے میں مرنے کے لئے سو سو جتن کرتا اگر میں خودکشی کرتا وہ میری لاش کو پنکھے سے لٹکا چھوڑ دیتے یا مجھے مردود کہہ کر فاتحہ خوانی پہ پابندی لگا دیتے مگر مچھ کی طرح آنسو بہا کر وہ زمیں کو بھی سمندر میں بدل دیتے (سمندر میں کسی میت کو کفنایا نہیں جاتا) وہ میری لاش کو فرعون کی میت سمجھ لیتے کسی اہرام میں رکھتے مری لکھی ہوئی…
Read Moreرانا سعید دوشی
بہت آسان سمجھے تھے ہم اس کارِ محبت کومحبت کی تو میری جان اداکاری بھی مشکل ہے
Read Moreصغیر احمد صغیر
عظمی جون
آئرین فرحت
دلاور علی آزر
نعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ دلاور علی آزر
بنتا ہی نہیں تھا کوئی معیارِ دو عالم اِس واسطے بھیجے گئے سرکارِ دو عالم جس پر ترے پیغام کی گرہیں نہیں کُھلتیں اُس پر کہاں کُھل پاتے ہیں اسرارِ دو عالم آ کر یہاں مِلتے ہیں چراغ اور ستارہ لگتا ہے اِسی غار میں دربارِ دو عالم وہ آنکھ بنی زاویۂ محورِ تخلیق وہ زلف ہوئی حلقۂ پرکارِ دو عالم جز اِس کے سرِ لوحِ ازل کچھ بھی نہیں تھا تجھ اسم پہ رکھے گئے آثارِ دو عالم یہ خاک اُسی نور سے مل کر ہوئی روشن یوں شکل…
Read Moreدلاور علی آزر
اُٹھنے کے لیے قصد کیا میں نے بلا کا اب لوگ یہ کہتے ہیں مقدر سے اُٹھا مَیں
Read More