کوکھ جلا سیارہ یہ سیارہ جو بالکل بیضوی کشکول جیسا ہے گلوبی گردشیں ساری ہمیشہ سے اسی کے گرد گھومی ہیں جو مقناطیس، مقناطیسیت سے ہاتھ دھو بیٹھیں تو پھر کمپاس کیا سمتیں بتائیں یہاں دل ہی نہیں گھٹتا بدن کا وزن بھی تفریق در تفریق ہوتا مثبتوں سے منفیوں کے دائروں میں گھومتا محسوس ہوتا ہے مسلسل گردشوں پر گر کوئی نظریں جمائے گا تو پھر چکر تو آئیں گے یہاں املی نہیں ملتی فقط ناپید جیون ہی کے کچھ آثار ملتے ہیں گہر ہونے کی خواہش میں برسنے…
Read MoreTag: سعید دوشی
رانا سعید دوشی ۔۔۔ اہتمام
اہتمام ۔۔۔۔۔ جمالے! او جمالے! وہ بھوری بھینس جس نے مولوی کو سینگ مارا تھا گلی سے کھول کر ڈیرے پہ لے جا شکورے! بھینس کی کھُرلی کو رستے سے ہٹا دے پھاوڑے سے سارا گوھیا میل کے کھیتوں میں لے جا نذیراں! جا ذرا ویہڑے میں بھی جھاڑو لگا دے سُن! یہ ساری چھانگ بیری کی اُٹھا لے جا جلا لینا، غلامے یار! یہ ۔۔۔ کیکر کے کنڈے ۔۔۔۔ چھوڑ ۔۔۔ میں خود ہی اُٹھا لوں گا تُو ایسا کر ۔۔۔ حویلی میں جو ”موتی“ اور ”ڈبُّو“ پھر رہے…
Read Moreرانا سعید دوشی
میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر گواہی دی تو عدالت میں مارا جائوں گا
Read Moreرانا سعید دوشی ۔۔۔ کر نہ بیٹھوں نئی خطا میں بھی
کر نہ بیٹھوں نئی خطا میں بھی عشق میں ہوں نیا نیا میں بھی بخشوا لوں کہا سنا میں بھی ہونے والا ہوں دشت کا میں بھی وہ کھڑا تھا کواڑ کے پیچھے اس پہ پورا نہیں کھلا میں بھی عشق دونوں ہی کر نہیں پائے پارسا تو بھی پارسا میں بھی اے ہوس! تو بھی کیا طوائف ہے تیری باتوں میں آ گیا میں بھی کون سکتے میں بول سکتا ہے بول سکتا تو بولتا میں بھی ساری دنیا تو ساری دنیا ہے ساری دنیا ۔۔۔ مراد کیا۔۔۔ میں…
Read Moreرانا سعید دوشی ۔۔۔ تتلیوں کو سویرے میں رکھا گیا
تتلیوں کو سویرے میں رکھا گیا جگنوؤں کو اندھیرے میں رکھا گیا تین کلموں میں اس کو میں کیا باندھتا جس کو اگنی کے پھیرے میں رکھا گیا سب میں رکھی گئی ملکیت کی ہوس اک جہاں میرے تیرے میں رکھا گیا سوئے کیا خواب میں بھاگتے ہی رہے کیسا چکر بسیرے میں رکھا گیا اس کا قیدی نہ تھا یرغمالی تھا مَیں مجھ کو میرے ہی ڈیرے میں رکھا گیا
Read More