سعید دوشی ۔۔۔ کوکھ جلا سیارہ​

کوکھ جلا سیارہ​

یہ سیارہ جو بالکل بیضوی کشکول جیسا ہے
گلوبی گردشیں ساری
ہمیشہ سے اسی کے گرد گھومی ہیں
جو مقناطیس، مقناطیسیت سے ہاتھ دھو بیٹھیں
تو پھر کمپاس کیا سمتیں بتائیں
یہاں دل ہی نہیں گھٹتا
بدن کا وزن بھی
تفریق در تفریق ہوتا
مثبتوں سے منفیوں کے دائروں میں گھومتا محسوس ہوتا ہے
مسلسل گردشوں پر
گر کوئی نظریں جمائے گا
تو پھر چکر تو آئیں گے
یہاں املی نہیں ملتی
فقط ناپید جیون ہی کے کچھ آثار ملتے ہیں
گہر ہونے کی خواہش میں
برسنے والی بوندیں
شیش ناگوں کے دہن میں جا ٹپکتی ہیں
جہاں سیپوں کی ناکوں میں
نکیلیں ڈال رکھی ہوں
وہاں پر زندگی کیسے نمو پائے !

Related posts

Leave a Comment