ہوجائیں کسی کے جو کبھی یار مُنافق سمجھو کہ ہوئے ہیں دَر و دیوار مُنافق بَن جاتا ہے کیسے کوئی سَالار مُنافق یہ بات سمجھنے کو ہے دَرکار مُنافق مُمکن تھا کبھی اُن کو میں خاطر میں نہ لاتا ہوتے جو مقابل مرے دو چار مُنافق اِ ن کو کسی بازار سے لانا نہیں پَڑتا یاروں میں ہی مل جاتے ہیں تَیّار مُنافق ناپید ہوا جاتا ہے اِخلاص یہاں پَر سَر دار مُنافق ہے سرِ دار مُنافق جو شَخص مُنافق ہے , مُنافق ہی رہے گا اِک بار مُنافق ہو…
Read MoreMonth: 2021 جولائی
دانش عزیز ۔۔۔ مرا نام لو کبھی
اُس نے کہا!کہ عشق کی تعریف توکرو!! میں نے کہا! کہ خیر ہے یہ کیا ہوا تمہیں؟ اُس نے کہا! بتاؤ نا ہوتا ہے کس طرح؟ میں نے کہا! یہ آسماں والے کی دَین ہے!! اُس نے کہا!کہ کوئی تو نکتہ بیان ہو!! میں نے کہا! کہ جب کوئی سَب سے حسیں لگے!! اُس نے کہا!کہ عشق کو لازم ہے ِاک حسیں؟ میں نے کہا! نہیں نہیں! یہ لازمی نہیں!! اُس نے کہا!نشانی کوئی اور بھی بتا؟ میں نے کہا!کہ چار سو وہ ہی دِکھائی دِے!! اُس نے کہا!کہ مان…
Read Moreنعتِ رسولِ مقبول ﷺ ۔۔۔ دانش عزیز
اُنﷺ کی چوکھٹ پہ رَکھ کر جَبیں دیکھنا دو جَہاں ہوں گے زیرِ نَگیں دیکھنا جِن کی ہر اِک اَدا میں ہیں آقاﷺ بسے وہ بھی جَنّت کے ہوں گے مکیں دیکھنا میرے آقاﷺ کی مِدحَت کرو تو سَہی ہم نوا ہوں گے روح الاَمیںؐ دیکھنا یہ وَتیرہ تھا کُہسار و اَشجار کا سَر جُھکانا جو اُنﷺ کو کہیں دیکھنا روزِمحشر قیامت کے ہنگام میں پاؤں پڑتے ہوۓ نکتہ چِیں دیکھنا نَعت ، شاہِ مدینہﷺ کی کہتے رہو! اَجر مِل جائےگا تم یَہیں دیکھنا عاشقِ مصطفےٰﷺ میرے حبشی بِلالؓ سَاری…
Read Moreخورشید رضوی
کسے ملے گی لرزتی لووں کی راہبری کہاں رہی ہیں وہ بام و چراغ کی رسمیں
Read Moreمنیر نیازی
میں جو منیر اک کمرے کی کھڑکی کے پاس سے گزرااس کی چک کی تیلیوں سے ریشم کے شگوفے پھوٹے
Read Moreصادق جمیل … گزر جانے کا موسم آ گیا ہے
گزر جانے کا موسم آ گیا ہےاُدھر جانے کا موسم آ گیاہے گرفت اپنے بدن پر کھو رہا ہوںبکھر جانے کا موسم آ گیا ہے اجازت ہو تو خود کو ساتھ لے لوںاگر جانے کا موسم آ گیا ہے مجھے کہنا پڑا ہے فاختہ سےکہ گھر جانے کا موسم آ گیا ہے بدن سے زندگی کی راکھ جھاڑونکھر جانے کا موسم آ گیا ہے ہزاروں خواہشیں زندہ ہیں دل میںمگر جانے کا موسم آ گیا ہے جمیل اس سمت کا سوچا نہیں تھاجدھر جانے کا موسم آ گیا ہے
Read Moreمنصف ہاشمی ۔۔۔ نثری نظم (یہ خط نوید صادق صاحب کو لکھا گیا تھا)
نثری نظم۔(یہ خط نوید صادق صاحب کو لکھا گیا تھا)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نوید صادق بھائی۔۔۔! آپ تو جانتے ہیں۔۔۔! خانہ بدوشوں کے پاس بس محبت اثاثہ ہوتی ہے۔ وہ دھڑکنوں کے افسانوں میں۔۔۔! حساسیت کی اذانوں میں۔۔۔! مقطعات آرزو کی تسبیح کرتے رہتے ہیں۔ ہم خانہ بدوش ، سیلانی ، آوارہ۔۔۔! حلقۂ بگوش خمار انجیل وفا کی تلاوت کرتے ہوئے۔۔۔! زبور بہار کی نظموں کو گنگناتے رہتے ہیں۔ عقیلۂ بنی سحر کے خطبوں کو سنتے ہوئے ۔۔۔ ! قمر بنی عشق کی چاندنی میں ! صالحینِ وفا کی خاطر ۔۔۔! مقتل میں…
Read Moreمنصف ہاشمی ۔۔۔ نثری نظم
نثری نظم۔ اے سرود انگیز خیال کے فطری تبسم۔۔۔! جب بھی چاندنی کے صفحوں پر۔۔۔۔! رات کی رانی ستاروں ، اشاروں اور استعاروں کی داستاں لکھتی ہے۔ جب مندروں جیسے میکدوں میں رقص کرتی شراب ۔۔۔! خمار و سرور کی دعا دیتی ہے۔۔۔تو پھر۔۔۔۔! آہٹیں ، سرسراہٹیں اور لڑکھڑاہٹیں ، بھیگی بھیگی ساعتیں یاد دلا کر۔۔۔۔! زہر میں ڈوبے پیالے۔۔.! سفاک ارادوں میں ڈوبی مسکراہٹ کا چہرہ دکھاتی ہیں۔ خوشبو کی سرگوشیاں۔۔۔!بھولی بسری باتیں یاد دلاتی ہیں۔ بہت رولاتی ہیں۔
Read Moreمنصف ہاشمی ۔۔۔ اسرارِ لطیف ومن الجمیل
نثری نظم اسرارِ لطیف ومن الجمیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ آسماں پر۔۔۔! نمائیل ، ثرومائیل ، عشقائیل کے روبرو۔۔۔! دستِ حنائی سے چراغ روشن کرتی رہے گی۔ میں زمیں پر پتھروں کو۔۔۔! لہو میں ڈبوتے ہوئے۔۔۔ریت کو نچوڑتے ہوئے۔۔۔! حساس حنیف کے آنگن میں ، تہذیبِ خواب ، وحدتِ شباب کے ساتھ غیرتِ جمال ، سبز حجاب کی روایتیں بیان کرتا رہوں گا۔ روشن چراغوں کے بیچ۔۔۔! سوسن و نسترن ابابیلوں کو یاد کرتی رہیں گی۔ میرے حوصلے کی۔۔۔میرے رقص بسمل کی مثالیں دیں گی۔ آلِ بدعت ۔۔۔۔۔! مجھے باغی کہیں گے۔۔۔۔سنگسار…
Read Moreمنصف ہاشمی ۔۔۔ نثری نظم
نثری نظم۔۔۔! چہرے بدلتے لوگوں میں۔۔۔! جذبات کا قتلِ عام کرنے والوں میں۔۔۔! مندر میں تڑپنے والوں کو دلاسہ دیتے ہوئے۔۔۔! مسجد میں بکھرے لہو کو آنسوؤں سے دھوتے ہوئے۔۔۔! گھپ اندھیرے میں ! سبز امامہ باندھے ہوئے۔۔۔سفیرِ بہار روتا ہے۔ شام کے آنگن میں سرخ سبز چوڑیاں ٹوٹی بکھری ہیں۔ قائمۃ الایمان کے زاویوں میں۔۔۔! وہ پھر بھی ، تفہیمِ جمال کے خطوط کی وادیوں میں۔۔۔تعبیرات خواب کے یوسف کا رنگ بھرتا ہے۔ زیوس ، اندر دیو کی مقدس کتابوں سے صدائے کن فکاں کی فکری آیتیں بولتا ہے۔…
Read More