نائیلہ راٹھور ۔۔۔نظم

گئے وقتوں میں ہم دوست ہوا کرتے تھے ایک دوسرے کے سنگ وقت بِتانے کے بہانے ڈھونڈتے رہتے پہروں بیٹھ کر نہ ہنسنے والی باتوں پر بھی ہنستے رہنا کتنا اچھا لگتا تھا پھر جانے کب سب وقت کے سیل رواں میں بہہ گیا جانے کہاں کھو گئے فرصت کے وہ روز وشب اور اب تو یہ عالم ہے کہ تمہارے فون کا نمبر بھی ذہن کی سلیٹ سے ڈیلیٹ ہو چکا ہے اگر کبھی سر راہ مل بھی جائوتو دل کو خوشی کے ساتھ ایک نامعلوم سی اجنبیت گھیر…

Read More

ظہور چوہان ۔۔۔ خاموش فضا بتا رہی ہے

خاموش فضا بتا رہی ہے دو چار قدم پہ زندگی ہے پنچھی یہ صدائیں دے رہے ہیں اُس پار کہیں گھٹا اُٹھی ہے ہوں لاکھ جدا ہمارے رستے منزل تو ہماری ایک ہی ہے اے ہجر کی شب ! یہ روتے روتے کس شخص کی آنکھ لگ گئی ہے جس گھر کے چراغ بُجھ گئے تھے اُس گھر میں ابھی بھی روشنی ہے روتا ہوا دل یہ کہہ رہا ہے منزل ترے سامنے کھڑی ہے ہونا ہے ظہور ابھی وہ چہرا کچھ گرد مگر جمی ہوئی ہے

Read More

عزم الحسنین عزمی ۔۔۔ دو غزلیں

مانتی کب تھی یہ ہونے پر، مگر ہونا پڑا راہ کی دیوار کو اس بار در ہونا پڑا آ گیا تو بس خدا ہونے کا ہی گُر سیکھ کر کل کلاں پھر آدمی تجھ کو اگر ہونا پڑا بانٹ دی اپنی سمجھداری یہاں پر اس لیے مجھ کو پاگل وقت سے کچھ پیشتر ہونا پڑا آخرش تھا قیس کی گدی نشینی کا سوال سو ہوا برباد مجھ کو جس قدر ہونا پڑا گھر نہیں بس، کاش وہ بھی دیکھ لو اے حاسدو عمر بھر اس کے عوض جو دربدر ہونا…

Read More

غلام حسین ساجد … آدمِ ثانی/غلام حسین غازی

ناول: آدمِ ثانی ………….. ناول نگار: غلام حسین غازی  ……………………………… علیگڑھ پبلشرز کا نہ معلوم کب اور کہاں سے شائع ہونے والا یہ ناول (ISBN 000-000-000-0) مجھے دو برس پہلے ملا تھا اور میں نے اس کتھا کے زمانۂ وقوع سے ایک سو سال پہلے پڑھا۔ سادہ لفظوں میں یہ ایک سائنس فکشن ہے۔زمین پر قیامت برپا ہو چکی۔یہ 2120 یعنی 01 بعد قیامت کا زمانہ ہے۔چاندوی اور مریخی بستیوں کے باسی کل گیارہ ہزار نفوس دوسری کہکشاؤں میں کسی نئی”زمین”کی تلاش میں ہیں۔وہ موت اور بدن کے زوال پر…

Read More