فخر عباس

عام سی بات پہ فتویٰ نہ لگا دے کوئی اب مجھے شعر سناتے ہوئے ڈر لگتا ہے

Read More

ڈاکٹر فخر عباس ۔۔۔ معتقد ہے وہ جسے یار سمجھ بیٹھے ہو

معتقد ہے وہ جسے یار سمجھ بیٹھے ہو اُس کے احساس کو تم پیار سمجھ بیٹھے ہو سادہ دل ہو تو عجب سادہ دلی ہے یہ بھی خود کو ہر پھول کا حقدار سمجھ بیٹھے ہو عین ممکن ہے کوئی طنز کیا ہو اُس نے تم تو ہنسنے کو بھی اقرار سمجھ بیٹھے ہو واہ کیا بات ہے اس شوق ِ مسیحائی کی تندرستوں کو بھی بیمار سمجھ بیٹھے ہو کچھ قدم اور بڑھانے سے ملے گا رستہ راہ ِ پر پیچ کو دیوار سمجھ بیٹھے ہو لذتِ وصل کے…

Read More

ڈاکٹر فخر عباس ۔۔۔ جن کی تعریف کئی اہلِ زباں کرتے ہیں

جن کی تعریف کئی اہلِ زباں کرتے ہیں وہ ترے ذکر سے مصرعوں کو رواں کرتے ہیں کون سی راہ پہ چلنا ہے، بتاتے ہی نہیں بات سیدھی یہ مرے دوست کہاں کرتے ہیں کیا عجب، حشر میں مل جائے وہ نیکی بن کر لوگ جس کفر کا اب مجھ پہ گماں کرتے ہیں ایسا آساں تو نہیں چیخنا چلّانا بھی درد ہوتا ہے تو ہم آہ و فغاں کرتے ہیں شاید ایسے ہی غمِ دہر سے جاں چُھوٹتی ہے خود کو آباد کسی اور جہاں کرتے ہیں

Read More

ڈاکٹر فخر عباس ۔۔۔ جن کی تعریف کئی اہلِ زباں کرتے ہیں

جن کی تعریف کئی اہلِ زباں کرتے ہیں وہ ترے ذکر سے مصرعوں کو رواں کرتے ہیں کون سی راہ پہ چلنا ہے، بتاتے ہی نہیں بات سیدھی یہ مرے دوست کہاں کرتے ہیں کیا عجب، حشر میں مل جائے وہ نیکی بن کر لوگ جس کفر کا اب مجھ پہ گماں کرتے ہیں ایسا آساں تو نہیں چیخنا چلّانا بھی درد ہوتا ہے تو ہم آہ و فغاں کرتے ہیں شاید ایسے ہی غمِ دہر سے جاں چُھوٹتی ہے خود کو آباد کسی اور جہاں کرتے ہیں

Read More

فخر عباس ۔۔۔ چلتا ہی جا رہا ہے وہ دیوانہ، مست ہے

چلتا ہی جا رہا ہے وہ دیوانہ، مست ہے راہیں کھلی ہوئی ہیں کہ منزل پرست ہے حیلہ گری میں کٹ گئی حیلہ گروں کی شب جانا ہے جس کو، دیر سے سامان بست ہے کم لگ رہی ہیں راہ کی ساری رکاوٹیں عالی ہے جب سے حوصلہ، دیوار پست ہے پاکیزہ دل سے آتا ہے آنکھوں میں نور بھی روشن دماغ ہے تو وہ تنویر دست ہے پورے یقیں سے بھیجئے سانسوں کا قافلہ بے جان زندگی میں بھی امکان ِ ہست ہے قابل نہیں ہے دوستی کے اس…

Read More