ڈاکٹر فخر عباس ۔۔۔ عید کے دن بھی جسے یاد خدا کی آئے

عید کے دن بھی جسے یاد خدا کی آئے اس کے اندر سے مہک کیوں نہ وفا کی آئے قیمتی لوگ بہت ہم سے ہوئے ہیں رخصت اب نہ دنیا میں کوئی لہر وبا کی آئے ایک بھی شخص نہ تھا بات ہماری سنتا ہم نے مجمعے کے لیے صرف دعا کی، آئے دل تو کرتا ہے کوئی حمد کہیں، نعت کہیں جب بھی اشعار میں تاثیر عطا کی آئے کس طرح ان سے جفا کوشی تصور کر لیں جن کی جانب سے صدا مہر و وفا کی آئے کاش…

Read More

فخر عباس

عام سی بات پہ فتویٰ نہ لگا دے کوئی اب مجھے شعر سناتے ہوئے ڈر لگتا ہے

Read More

ڈاکٹر فخر عباس ۔۔۔ روپ نگر کی رانی سے ڈر لگتا ہے

Read More