عید کے دن بھی جسے یاد خدا کی آئے اس کے اندر سے مہک کیوں نہ وفا کی آئے قیمتی لوگ بہت ہم سے ہوئے ہیں رخصت اب نہ دنیا میں کوئی لہر وبا کی آئے ایک بھی شخص نہ تھا بات ہماری سنتا ہم نے مجمعے کے لیے صرف دعا کی، آئے دل تو کرتا ہے کوئی حمد کہیں، نعت کہیں جب بھی اشعار میں تاثیر عطا کی آئے کس طرح ان سے جفا کوشی تصور کر لیں جن کی جانب سے صدا مہر و وفا کی آئے کاش…
Read MoreTag: فخر عباس کی غزلیں
فخر عباس
عام سی بات پہ فتویٰ نہ لگا دے کوئی اب مجھے شعر سناتے ہوئے ڈر لگتا ہے
Read Moreڈاکٹر فخر عباس ۔۔۔ روپ نگر کی رانی سے ڈر لگتا ہے
ڈاکٹر فخر عباس ۔۔۔ رُوپ نگر کی رانی سے ڈر لگتا ہے
رُوپ نگر کی رانی سے ڈر لگتا ہے خوشبو اور جوانی سے ڈر لگتا ہے اُس کی چاہت حد سے بڑھتی جاتی ہے اب تو اُس دیوانی سے ڈر لگتا ہے اُس کے پیار میں آگے جا تو سکتا ہوں لیکن اِس نادانی سے ڈر لگتا ہے بچتا ہوں میں آئینے سے مجھ کو بھی آنکھوں کی ویرانی سے ڈر لگتا ہے خوف ہے مجھ کو رات گئے تک رونے سے غم کی یاد دہانی سے ڈر لگتا ہے رُت کے ہر طوفان سے ہوں مانوس، مگر بے موسم طغیانی…
Read More