فخر عباس

عام سی بات پہ فتویٰ نہ لگا دے کوئی اب مجھے شعر سناتے ہوئے ڈر لگتا ہے

Read More

ڈاکٹر فخر عباس ۔۔۔ رُوپ نگر کی رانی سے ڈر لگتا ہے

رُوپ نگر کی رانی سے ڈر لگتا ہے خوشبو اور جوانی سے ڈر لگتا ہے اُس کی چاہت حد سے بڑھتی جاتی ہے اب تو اُس دیوانی سے ڈر لگتا ہے اُس کے پیار میں آگے جا تو سکتا ہوں لیکن اِس نادانی سے ڈر لگتا ہے بچتا ہوں میں آئینے سے مجھ کو بھی آنکھوں کی ویرانی سے ڈر لگتا ہے خوف ہے مجھ کو رات گئے تک رونے سے غم کی یاد دہانی سے ڈر لگتا ہے رُت کے ہر طوفان سے ہوں مانوس، مگر بے موسم طغیانی…

Read More