A Clock stopped Not the Mantel’s Geneva’s farthest skill Can’t put the puppet bowing That just now dangled still An awe came on the Trinket! The Figures hunched, with pain Then quivered out of Decimals Into Degreeless Noon It will not stir for Doctors This Pendulum of snow The Shopman importunes it While cool — concernless No Nods from the Gilded pointers Nods from the Seconds slim Decades of Arrogance between The Dial life And Him
Read MoreMonth: 2022 مارچ
We Real Cool By Gwendolyn Brooks
We real cool We left School We lurk late We strike straight We Sing Sin We thin gin We jazz June We die soon
Read Moreاحسان دانش
آج کیا سوجھ رہی ہے ترے دیوانوں کو دھجیاں ڈھونڈتے پھرتے ہیں گریبانوں کی
Read Moreحمدِ باری تعالیٰ ۔۔۔ جلیل عالی
کوئی حلقہ ہے نہ حد ہے نہ کنارے اُس کے فرش و افلاک، فضا، چاند، ستارے، اُس کے آنکھ کے بس میں کہاں عکس اُتارے اُس کے دلِ بینا ہی سمجھتا ہے اشارے اُس کے نہ تو دیکھا نہ ہی سمجھا نہ اُسے پہچانا پھر بھی موسم ہیں کئی ساتھ گزارے اُس کے اُس کی تسبیح شماری میں بسر ہوں تو بنے تنِ فانی کو دیے سانس اُدھارے اُس کے وہ جو چاہے تو بِنا ابر بھی اُترے برسات ذات ہے اُس کی عجب کام ہیں نیارے اُس کے رحمتِ…
Read Moreآسناتھ کنول ۔۔۔ چل پڑتے ہیں نیند میں بھی
چل پڑتے ہیں نیند میں بھی پھر اک خواب کے آنے تک تکیہ بھیگا رہتا ہے تیرا راز چھپانے تک آس کی کھڑکی کھلتی ہے کوئی بات سنانے تک سائے چلتے رہتے ہیں اک چہرہ اپنانے تک دریا چاند ستارا میں سب ہیں آنے جانے تک دل پر چوٹ کا حاصل بھی بس اک پیار جتانے تک خواب کو زندہ رکھا ہے ظالم تیرے آنے تک
Read Moreساجد رضا خان ۔۔۔ سکوں محال ہوا اور قیاس بڑھنے لگے
سکوں محال ہوا اور قیاس بڑھنے لگے سو میرے چاروں طرف بدحواس بڑھنے لگے اب اس لیے بھی وفائیں سمجھ سے باہر ہیں بہت سے لوگ مرے آس پاس بڑھنے لگے فضا کچھ ایسی بنی رات خواب گہ میں مری ہوا کے شور سے خوف و ہراس بڑھنے لگے میں خود پہ روتا ہوں کھل کر نہ کھل کے ہنستا ہوں مجھے یہ ڈر ہے مرے غم شناس بڑھنے لگے بہت محال ہے جینا ، کٹھن رویوں میں خود اپنے آپ پہ دل کی بھڑاس بڑھنے لگے تمھارے ہاتھ کا…
Read Moreشوکت محمود شوکت ۔۔۔ دو غزلیں
اُداسی کا سماں ہے ، تُو کہاں ہے بہر جانب خزاں ہے ، تُو کہاں ہے مکیں ہے تُو مرے دل میں ، ولیکن نگاہوں سے نہاں ہے، تو کہاں ہے جہاں بھی ہے مجھے آواز دے دے یہاں ہے یا وہاں ہے ، توُ کہاں ہے بچھڑ کر بھی ، ابھی تک نام تیرا مرے وردِ زباں ہے ، تُو کہاں ہے جہانِ قلب میں مدت سے پیارے بپا ، آہ و فغاں ہے ، توُ کہاں ہے زمانے سے نہیں کوئی گلہ بھی زمانہ مہرباں ہے ، تُو…
Read Moreطالب انصاری ۔۔۔ آخری گزارش
آخری گزارش ۔۔۔۔۔۔۔۔ مری گفتگو بھیگے پتّوں پہ لکھی وہ تحریر ہے جو کسی کی سمجھ میں ہی آتی نہیں ہے مرے خواب زرتاب کرنوں سے گوندھے ہوئے خواب تاریکیوں سے بھری کوٹھڑی کی ٹپکتی ہوئی چھت کے نیچے پڑے ہیں کہ یہ سکّۂ رائج الوقت ہرگز نہیں ہیں مری سوچیں مسجد کی الماری میں رکھّی پُرنور رحلیں جو بے کار چیزوں کی صورت ٹرنکوں کے اندر چھپا دی گئی ہیں انھیں جھاڑنے ، پونچھنے کی کسی کو بھی فرصت نہیں ہے مری خواہشیں گوردوارے کے اونچے کلس جیسی تھیں…
Read Moreصدام ساگر ۔۔۔ عہدِ حاضر کا ایک مستند نام ۔۔۔بشری رحمٰن
عہدِ حاضر کا ایک مستند نام ۔۔۔بشری رحمٰن بشری رحمن جن کا شمار پاکستان کی اُن کہنہ مشق لکھاریوں میں ہوتاہے جو ایک طویل عرصے سے بے تکان ،بے دھڑک مسلسل لکھ رہی ہیں۔ انہیں زمانہ طالبِ علمی سے کلامِ اقبال کو زبانی یاد کروانے والے ان کے والدِ گرامی عبدالرشید شاہی طبیب جبکہ والدہ نصرت رشید اپنے وقت کی معروف شاعرہ تھیں۔ کہتے ہیں کہ حرف اور الفاظ بشری رحمن کے آگے یوں ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ہیں گویا وہ ان کے سر کا تاج ہیں۔بشری رحمٰن ۲۹ اگست…
Read Moreنعتِ رسولِ مقبولﷺ … ناصر زیدی
نعتِ رسولِ مقبولﷺ نہ مال و زر کی، نہ جاہ و حشم کی خوشبو تھیسوادِ قلب و نظر میں حرم کی خوشبو تھی عجب نشہ تھا کہ خود پر بھی اختیار نہ تھامشامِ جاں میں وہ جود و کرم کی خوشبو تھی قریب روضۂ اقدس کی جالیاں تھیں مرےعقیدتوں میں بسی چشمِ نم کی خوشبو تھی کِھلا ہُوا تھا چمن ہر طرف مرادوں کاحضورؐ آپ کے ہی دم قدم کی خوشبو تھی جب آپ آئے تو ایمان وہ بھی لے آئےوہ جن کے ذہن میں سنگ و صنم کی خوشبو…
Read More