بے رخی اپنی پہ اب آنسو بہانا ہے عبثاب مری میت پہ جانم تیرا آنا ہے عبث بھر چکی ہے دل کی نگری رنجِ جاناں سے مریاے غم دوراں مرے من میں سمانا ہے عبث چل رہی ہے چار سو بے اعتباری کی ہوااس زمانے میں کسی کو آزمانا ہے عبث ڈوبنا جو چاہتے ہیں بالارادہ خود بہ خودناخدا پھر ان کی کشتی کو بچانا ہے عبث بات ہوتی ہے میاں اپنے نصیبوں کی سدابغض و کینہ پال کے دل کو جلانا ہے عبث کوہ و صحرا سے نہیں گزرے…
Read MoreMonth: 2022 مارچ
محمود کیفی ۔۔۔ وہ میں نہیں تھا ، مگر وہ میری ہی ذات سمجھے
وہ میں نہیں تھا ، مگر وہ میری ہی ذات سمجھے عجیب تھے لوگ وہ بھی جو دِن کو رات سمجھے ہو ملک پر جب امیر زادے کی حکمرانی غریب لوگوں کی کیسے وہ مُشکلات سمجھے خدا کے بارے میں بُت پرستوں سے بات کی تو کبھی وہ عُزٰی ، کبھی وہ لات و منات سمجھے ابھی وہ غُصّے میں ہے ، ابھی تُم خموش بیٹھو نہیں یہ ممکن ابھی تُمھاری وہ بات سمجھے میں دوستوں کی مدد کو بیٹھا تھا کیفی لیکن وہ میرے چُھپ بیٹھنے کو دُشمن کی…
Read Moreاسد رضا سحر ۔۔۔ بڑے اسی کوہی کہتے ہیں دل لگی مرے دوست
بڑے اسی کوہی کہتے ہیں دل لگی مرے دوست کسی سے کچھ بھی نہ کہنا ہے زندگی مرے دوست جہاں میں ایک بھی ایسا نظر نہیں آیا کرے جو آکے تمہاری برابری مرے دوست بتا رہی ہیں مہکتی فضائیں گلیوں کی گذر ہوا ہے تمہارا ابھی ابھی مرے دوست میں اک وظیفہ تمہیں دان کرنے والا ہوں کشید کرنا اندھیروں سے روشنی مرے دوست
Read Moreآسناتھ کنول ۔۔۔ ویں اس کو اپنانے تک
ویں اس کو اپنانے تک اپنا آپ بنانے تک چل پڑتے ہیں نیند میں بھی پھر اک خواب کے آنے تک تکیہ بھیگا رہتا ہے تیرا راز چھپانے تک آس کی کھڑکی کھلتی ہے کوئی بات سنانے تک سائے چلتے رہتے ہیں اک چہرہ اپنانے تک دریا چاند ستارا میں سب ہیں آنے جانے تک دل پر چوٹ کا حاصل بھی بس اک پیار جتانے تک خواب کو زندہ رکھا ہے ظالم تیرے آنے تک
Read Moreساجد رضا خان ۔۔۔ سکوں محال ہوا اور قیاس بڑھنے لگے
سکوں محال ہوا اور قیاس بڑھنے لگے سو میرے چاروں طرف بدحواس بڑھنے لگے اب اس لیے بھی وفائیں سمجھ سے باہر ہیں بہت سے لوگ مرے آس پاس بڑھنے لگے فضا کچھ ایسی بنی رات خواب گہ میں مری ہوا کے شور سے خوف و ہراس بڑھنے لگے میں خود پہ روتا ہوں کھل کر نہ کھل کے ہنستا ہوں مجھے یہ ڈر ہے مرے غم شناس بڑھنے لگے بہت محال ہے جینا ، کٹھن رویوں میں خود اپنے آپ پہ دل کی بھڑاس بڑھنے لگے تمھارے ہاتھ کا…
Read Moreطالب انصاری ۔۔۔ آخری گزارش
آخری گزارش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مری گفتگو بھیگے پتّوں پہ لکھی وہ تحریر ہے جو کسی کی سمجھ میں ہی آتی نہیں ہے مرے خواب زرتاب کرنوں سے گوندھے ہوئے خواب تاریکیوں سے بھری کوٹھڑی کی ٹپکتی ہوئی چھت کے نیچے پڑے ہیں کہ یہ سکّۂ رائج الوقت ہرگز نہیں ہیں مری سوچیں مسجد کی الماری میں رکھّی پُرنور رحلیں جو بے کار چیزوں کی صورت ٹرنکوں کے اندر چھپا دی گئی ہیں انھیں جھاڑنے ، پونچھنے کی کسی کو بھی فرصت نہیں ہے مری خواہشیں گوردوارے کے اونچے کلس جیسی تھیں…
Read Moreشوکت محمود شوکت ۔۔۔ دو غزلیں
اُداسی کا سماں ہے ، تُو کہاں ہے بہر جانب خزاں ہے ، تُو کہاں ہے مکیں ہے تُو مرے دل میں ، ولیکن نگاہوں سے نہاں ہے، تُو کہاں ہے جہاں بھی ہے مجھے آواز دے دے یہاں ہے یا وہاں ہے ، توُ کہاں ہے بچھڑ کر بھی ، ابھی تک نام تیرا مرے وردِ زباں ہے ، تُو کہاں ہے جہانِ قلب میں مدت سے پیارے بپا ، آہ و فغاں ہے ، توُ کہاں ہے زمانے سے نہیں کوئی گلہ بھی زمانہ مہرباں ہے ،…
Read Moreیزدانی جالندھری ۔۔۔ پس منظر
پس منظر ۔۔۔۔۔۔۔ وقت کا رخش ِ رواں ہے تیز گامسانس، لمحے، دِن، مہینے اور سالاتنی تیزی سے گزرتے ہیں کہ رہ جاتا ہے انساں دم بخودآج بھی اِک سال بِیتاتلخ و شیریں کتنی یادیںاور کتنے زخم دے کروقت کے گہرے سمندر میں گِرا اور مِٹ گیا اور ابھرا آفتاب ِ سال ِ نوکتنی امیدیں لئے، کتنے سنہرے خواب کرنوں میں سجائےاور میں۔۔۔اِس سوچ میں گُم ہوں کہ اِن کرنوں کے پس منظر میں کتنے زخم ہیں !
Read Moreسجاد حسین ساجد ۔۔۔ وجودِ شب پہ کوئی آن بان چھوڑ گیا
وجودِ شب پہ کوئی آن بان چھوڑ گیا اجاڑ بستی میں جلتا مکان چھوڑ گیا خوداپنی سوچ بھی مجھ کو پرائی لگنے لگی وہ میرے دھیان میں ایسا گمان چھوڑ گیا ہوائے جبر نہ بدلی کبھی زمانے میں ضمیر، عدل کا خستہ مکان چھوڑ گیا ستم ظریف مسا فر وفا کی منزل کا انا کے دوش پہ الجھی تکان چھوڑ گیا کمال فن تھا جسے یاریاں نبھانے میں وجودِ ہست کی تنہا دکان چھوڑ گیا یہ کون لوگ ہیں جو ہار کر بھی جیتے ہیں سوال، ذہن میں اک داستان…
Read Moreشہاب صفدر ۔۔۔ خوشبو سی پھیل جاتی ہے سارے میں گفتگو
خوشبو سی پھیل جاتی ہے سارے میں گفتگو جس کُنج بھی کریں ترے بارے میں گفتگو یہ سوچ کر ہیں عُمر کے اس موڑ پر خموش اب فائدے میں ہے نہ خسارے میں گفتگو وہ لب دکھا رہے تھے کسی خواب کی بہار وہ آنکھ کر رہی تھی اشارے میں گفتگو الفاظ اور معنی میں حائل ہے موجِ رنگ اٹکی ہوئی ہے ایک نظارے میں گفتگو خوش لہجہ ہم کلام ہوا تھا کوئی شہاب محفوظ ہے وہ دل کے شمارے میں گفتگو
Read More