دھند اوڑھے ہوئے پھولوں کی گلی لگتی ہے تجھ سے بڑھ کر تو تری یاد بھلی لگتی ہے تم تو کہتے تھے سنبھالااسے بچوں کی طرح پر یہ تصویر تو تھوڑی سی جلی لگتی ہے ایسے پلکوں پہ جما ہے میرے وحشت کا غبار عمر جیسے کسی صحرا میں ڈھلی لگتی ہے بعد آیات ِ کریمہ کے ، درودوں کے سدا سخت مشکل میں مجھے نادِ علی لگتی ہے خُشک پلکوں پہ لئے زرد اداسی کے دیئے کیا یہی لڑکی تمہیں نازوں پلی لگتی ہے؟ زندگی تلخ بھی ہے ترش…
Read MoreMonth: 2022 اپریل
صہیب اکرام
بس یونہی اک دن ہوا کے ساتھ چل نکلے صہیب رہ گیا اسباب سب دہلیز پر رکھا ہوا
Read Moreصہیب اکرام
ہم فلک زاد بھی ان سبز زمینوں پہ صہیب ایسے اترے ہیں کہ پھر نقل مکانی سے گئے
Read Moreصہیب اکرام
وہ احتیاط ہے یاں تو کہ اک مسافرِ شب صدائے گنبدِ افلاک پر پلٹ آیا
Read Moreصہیب اکرام
روح جب میری حریفِ غمِ ہستی نہ رہی تب بدن میرا کسی موجِ فنا سے مہکا
Read Moreصہیب اکرام ۔۔۔ ادراک
ادراک عمر بھی کی کاہشِ بےغم کے خوگر اس جہانِ بےبصر میں ہم کہاں تک اپنے دل میں خاک ہوتی بستیوں کے دکھ سمیٹیں بین کرتی خواہشوں کی بھیڑ میں روز اک تازہ لحد کی باس لے کر کب تلک پھرتے رہیں گے دربدر پیشتر اس سے کہ یہ ساری متاعِ بے ہنر خاک میں مل جائے ہم فرض کر لیں یہ جہانِ بےبصر اک گلشنِ نوخیز ہے اور اس کے سب طیورِ خوشنوا کی رنگ برنگی بولیوں سے لفظ کچھ دامن میں چن کر صفحۂ خوابِ بشارت پر الٹ…
Read Moreصہیب اکرام ۔۔۔ گزشتگاں مرے آئندگاں سے ہٹ کر تھے
گزشتگاں مرے آئندگاں سے ہٹ کر تھے جو شہر گم ہوئے وہ رائگاں سے ہٹ کر تھے چمک رہے تھے سرِ آب جو، سمیٹ لیے مگر وہ عکس جو آبِ رواں سے ہٹ کر تھے سرشت بدلی ہے میری نہ ریگِ صحرا کی ہم اپنی موج میں تھے اور مکاں سے ہٹ کر تھے مرے ہی ذوقِ نمائش کی سب خرابی ہے وگرنہ رنگ تو اس خاکداں سے ہٹ کر تھے فنا کی موج سے ہم ایسے بھی ہوئے سرشار جو کہنے کو کسی سود و زیاں سےہٹ کر تھے…
Read Moreحمایت علی شاعر ۔۔۔ کرسی
کرسی ۔۔۔۔۔۔ جنگل کا خونخوار درندہ، کل تھا مرا ہمسایہ اپنی جان بچانے، میں جنگل سے شہر میں آیا شہر میں بھی ہے میرے خون کا پیاسا اِک ’چوپایہ‘
Read Moreحمایت علی شاعر ۔۔۔ رویتِ ہلال
رویتِ ہلال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خود آگہی نہ جدتِ فکر و نظر ملی وہ قوم آج بھی ہے پرستار چاند کی جس قوم کو روایتِ ’شق القمر‘ ملی
Read Moreرخشندہ نوید ۔۔۔ رات کی رات
رات کی رات ۔۔۔۔۔۔۔ شام اُتری بدن پر حسیں لمس کے پھول کِھلنے لگے قرب کی لو سرہانے سرہانے جلی خواب گاہوں کے پیچھے ہواؤں کے پرنرم خوابوں کی آہٹ سے ملنے لگے شام اُتری بدن پر حسیں لمس کے پھول کھلنے لگے دھیرے دھیرے رواں کاروانِ فلک پر ستاروں کے جھرمٹ میں ڈوبی ہوئی رات جانے لگی چاہتوں کی ہوا سرسرانے لگی بند کمروں میں کھڑکی کے پردے اُٹھے ساعتِ سحر نے ادھ کھلی چشم کو خواب سے جاگنے کا اشارہ دیا صبح کی بارگاہوں میں ننھی کرن روشنی…
Read More