سید آل احمد ۔۔۔ اُمید کے صحرا میں جو برسوں سے کھڑا ہے

اُمید کے صحرا میں جو برسوں سے کھڑا ہے حالات کی بے رحم ہواؤں سے لڑا ہے رُسوائی سے بھاگے تو یہ محسوس ہوا ہے تنہائی کی منزل کا سفر کتنا کڑا ہے ہیرے کی کنی ہو تو تبسم بھی بہت ہے لو سامنے اک کانچ کا مینار کھڑا ہے یوں ذہن پہ برسا ہے تری یاد کا بادل جیسے کہ کوئی کوہِ الم ٹوٹ پڑا ہے گزرے ہوئے لمحے کبھی واپس نہیں آتے کیوں صورتِ دیوار اندھیرے میں کھڑا ہے اک اخترِ مبہم ہوں بظاہر میں اُفق پر کہتے…

Read More

بشیر احمد حبیب ۔۔۔ چاہتیں جذبِ دروں مانگتی ہیں

چاہتیں جذبِ دروں مانگتی ہیں سر پھری ہوں تو جنوں مانگتی ہیں دھڑکنیں اپنی روانی کے لیے تیرے لہجے کا سکوں مانگتی ہیں اس جنم میں تجھے پانے کے لیے قسمتیں کن فیکوں مانگتی ہیں میری باتیں بھی معانی کے لیے تیری آنکھوں کا فسوں مانگتی ہیں حرفِ اَسرار کو پانے کے لیے حیرتیں سوزِ دروں مانگتی ہیں

Read More

دوارکا داس شعلہ … دیکھ جرم و سزا کی بات نہ کر

دیکھ جرم و سزا کی بات نہ کر میکدے میں خدا کی بات نہ کر میں تو بے مہریوں کا عادی ہوں مجھ سے مہر و وفا کی بات نہ کر شوقِ بے مدعا کا مارا ہوں شوقِ بے مدعا کی بات نہ کر وہ تو مدت ہوئی کہ ٹوٹ گیا میرے دستِ دعا کی بات نہ کر جو نہیں اختیار میں میرے اس بتِ بے وفا کی بات نہ کر عشق کی انتہا کو دیکھ ذرا عشق کی ابتدا کی بات نہ کر کیا ملا فکر کی رسائی سے…

Read More

شکیل قمر ۔۔۔ جب دن نکل رہا ہے تو کیوں رات کا ہے خوف

جب دن نکل رہا ہے تو کیوں رات کا ہے خوف دن بھی نہ رات جیسا ہو اس بات کا ہے خوف تاریکیوں میں چلتے رہے دیکھ بھال کر جو دن میں رات گذری ہے اُس رات کا ہے خوف سب کو یہاں پہ خوف اندھیروں کا ہے مگر میں روشنی سے ہارا ہوں اِس مات کا ہے خوف مجھ کو پتہ ہے کیا ہیں اندھیرے ،اُجالے کیا کس سے نبھا ہو کیسے یہ حالات کا ہے خوف

Read More

محمد نوید مرزا ۔۔۔ کھلے ہیں آگہی کے مجھ پہ در آہستہ آستہ

کھلے ہیں آگہی کے مجھ پہ در آہستہ آستہ ہوئی سارے زمانے کی خبر آہستہ آہستہ ہمیشہ کروٹیں لیتی ہوئی محسوس ہوتی ہے زمیں محور سے ہٹتی ہے مگر آہستہ آہستہ کسی آہٹ سے کب کوئی مکاں مسمار ہوتا ہے چٹخ کر ٹوٹتے ہیں بام و در آہستہ آہستہ بلندی کی طرف اُن کو ہوائیں لے کے جاتی ہیں بناتے ہیں پرندے رہگزر آہستہ آہستہ ہوا تبدیلیوں کی چل پڑی موسم بدلنے سے ملیں گے اب نئے شام و سحر آہستہ آہستہ خود اپنی ذات کے بارے میں بھی کب…

Read More

محمد نوید مرزا ۔۔۔ رنگوں کا اک جہاں مرے اندر نہیں کھلا

رنگوں کا اک جہاں مرے اندر نہیں کھلا خوشبو کے باوجود گُلِ تر نہیں کھلا لہروں کے ساتھ ساتھ سفر کر رہا تھا میں تشنہ لبی میں ، مجھ پہ سمندر نہیں کھلا اک خواب تھا ، میں جس کو نہ تعبیر دے سکا ذہنوں پہ منکشف تھا ، زباں پر نہیں کھلا میں جس پہ دستکوں کے نشاں چھوڑ کر گیا حیراں ہوں کائنات کا وہ در نہیں کھلا میں اُس کی جستجو میں رہا ہوں تمام عمر یہ اور بات مجھ پہ ستم گر نہیں کھلا

Read More

آفتاب خان ۔۔۔ عشق گر با وفا نہیں ہوتا

عشق گر با وفا نہیں ہوتا حسن بھی دیرپا نہیں ہوتا دل سے جب دل جُدا نہیں ہوتا ہجر کا مرحلہ نہیں ہوتا بخت والوں کو ہجر ملتا ہے درد یہ خود چُنا نہیں ہوتا ہجر بھی آسمانی تحفہ ہے یہ سبھی کو عطا نہیں ہوتا ہجر میں جس قدر سکون ملے وصل میں وہ مزا نہیں ہوتا ایسا اُلجھا ہوں اس کی اُلجھن میں زُلف سے میں رہا نہیں ہوتا کیوں بھٹکتی ہیں دید کو آنکھیں تم سے جب رابطہ نہیں ہوتا جب اُسے ڈھونڈنے نکلتا ہوں پاس اُس…

Read More