اکرم کنجاہی ۔۔۔ طاہرہ اقبال (مضمون)

طاہرہ اقبال طاہرہ اقبال اِن دنوںگورنمنٹ کالج فار ویمن یونی ورسٹی، فیصل آباد میں صدر شعبۂ اُردو، ایک محقق، نقاد،اور فکشن نگار ہیں۔اِس وقت اُن کا شمار اہم فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ طاہرہ اقبال نے چار افسانوی مجموعے سنگ بستہ، ریخت، گنجی بار، ایک ناولٹ مٹی کی سانجھ، نگین گم گشتہ سفر نامے تنقیدی کتب منٹو کااسلوب، پاکستانی اُردو افسانہ اور دو ناول نیلی بار اور گراں لکھے ہیں۔ اُن کے افسانے دیگر فکشن نگاروں کی نسبت قدرے طویل ہوتے ہیں کیوں کہ وہ اکثر دیہات کے پس منظر…

Read More

قابل اجمیری ۔۔۔ تضادِ جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کرو گے

تضادِ جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کرو گے میں رو رہا ہوں تو ہنس رہے ہو میں مسکرایا تو کیا کرو گے مجھے تو اس درجہ وقتِ رخصت سکوں کی تلقین کر رہے ہو مگر کچھ اپنے لئے بھی سوچا میں یاد آیا تو کیا کرو گے کچھ اپنے دل پہ بھی زخم کھاؤ مرے لہو کی بہار کب تک مجھے سہارا بنانے والو، میں لڑکھڑایا تو کیا کرو گے ابھی تو تنقید ہو رہی ہے مرے مذاقِ جنوں پہ لیکن تمہاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ خزاں میں غم ذرا کچھ کم کیا کر

خزاں میں غم ذرا کچھ کم کیا کر بہاروں میں بھی آنکھیں نم کیا کر دلوں میں قید کر رکھا ہے جن کو وہ باتیں بھی کبھی باہم کیا کر تمنا ہے کہ زہری چپ کے گیسو لبوں کے دوش پر برہم کیا کر ہر آنگن میں سحر کب بولتی ہے سکوتِ شام کا دُکھ کم کیا کر تعلق خواب ہے قدرت نہیں ہے شکستِ دل کا مت ماتم کیا کر کہیں بہتر ہے جابر سے بغاوت سرِ تسلیم یوں نہ خم کیا کر حرارت ڈھونڈ مت مہتابِ جاں میں…

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تم نے

نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تم نے کچھ نہ بن آیا تو آواز سنا دی تم نے اس کرم کو مری مایوس نظر سے پوچھو ساقی بیٹھا رہا اور اٹھ کے پلا دی تم نے مجھ پہ احساں نہ رکھو جان بچا لینے کا مرنے دیتے مجھے کاہے کو دعا دی تم نے یہ کہو پیشِ خدا حشر میں منثا کیا تھا میں کوئی دور کھڑا تھا جو صدا دی تم نے ان کے آتے ہی مزہ جب ہے مرا دم نکلے وہ یہ کہتے ہوئے رہ جائیں…

Read More

محسن اسرار ۔۔۔ ذرا بھی میں کہیں چوکا تو ٹوٹ جاؤں گا

ذرا بھی میں کہیں چوکا تو ٹوٹ جاؤں گا اسے جو دوسرا سمجھا تو ٹوٹ جاؤں گا مجھے عجیب سی مہلت نے تھام رکھا ہے اب ایک لمحہ بھی گزرا تو ٹوٹ جاؤں گا مجھے یقیں نہ دلا بازیافت ہونے کا اگر یقیں نہیں آیا تو ٹوٹ جاؤں گا میں ایک واہمے کی انتہا پہ بیٹھا ہوں جو میں نے پہلو بھی بدلا تو ٹوٹ جاؤں گا اُداسیاں مرے اعصاب پر مسلط ہیں کسی نے قہقہہ مارا تو ٹوٹ جاؤں گا اب انتظار سے آگے نکل گیا ہے وجود کوئی…

Read More

عمران خان کا 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کا اعلان

لانگ مارچ کے شرکا سے ویڈیو خطاب کے دوران عمران خان نے ’’حقیقی آزادی‘‘ مارچ کے دوسرے مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تحریک نہیں رکے گی، 26 نومبر کو شفاف انتخابات کا مطالبہ کریں، ساری قوم مل کر ہمارے ساتھ جدوجہد کرے، سب سے اگلے ہفتے پنڈی میں ملاقات ہوگی۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ہماری اپنی اسٹیبلشمنٹ نے ان کو کرپٹ کہا ہے، میرا سوال ہے کہ ایک دم یہی لوگ کیسے اسٹیبلشمنٹ کے لیے ٹھیک ہو گئے، مان لیتے ہیں اسٹیبلشمنٹ نے سازش نہیں کی…

Read More

شاہد ماکلی … گُلوں پہ اوس پڑی ، خاک میں نمی جاگی

گُلوں پہ اوس پڑی ، خاک میں نمی جاگی تھکن سے اُونگھتے منظر میں تازگی جاگی عجیب عالمِ بیداری میں سفر گزرا کہ ہر مقام پہ مجھ میں تری کمی جاگی چمن سے جا چکا تھا پھول لے کے شہزادہ جب اپنے خوابِ سحر سے بکاؤلی جاگی نہ گہرے سکتے سے پھر قصہ گو نکل پایا نہ داستان میں سوئی ہوئی پری جاگی نہ اپنے آپ میں یکسُو کبھی ہوئے ہم تم نہ لاشعور میں خوابیدہ روشنی جاگی میں خوف اوڑھ کے لیٹا تھا ، ہڑبڑا کے اٹھا وہ خواب…

Read More

اعجاز کنور راجہ ۔۔۔ کچھ نہ کچھ ہے کہیں پسِ دیوار، یوں ہی سر پھوڑتا نہیں ہوں میں

کچھ نہ کچھ ہے کہیں پسِ دیوار، یوں ہی سر پھوڑتا نہیں ہوں میں اک تعلق ہے رائگانی سے، اور اسے توڑتا نہیں ہوں میں عشق ہے یا ہے خوفِ رسوائی، بات اب تک سمجھ نہیں آئی بے خیالی میں ہاتھ پکڑا تھا، اب اسے چھوڑتا نہیں ہوں میں حسنِ تدبیر! کارِ زیبائی!، اُس کی تصویر بن نہیں پائی کینوس پر لگے ہوئے نقطے، ٹھیک سے جوڑتا نہیں ہوں میں کارِ آتش مدام جلنا ہے، اِک سفر عمر بھر کا چلنا ہے منزلیں چھوڑ دیں خوشی سے مگر، راستہ چھوڑتا…

Read More