اکرم کنجاہی ۔۔۔ عنبرین حسیب عنبر

عنبرین حسیب عنبر عمر بھر کے سجدوں سے مل نہیں سکی جنت خُلد سے نکلنے کو اک گناہ کافی ہے پہلو دار تفہیم کا حامل یہ شعر عنبریں حسیب عنبر کا ہے جو ہمارے عہد کی ایک مقبول شاعرہ، مدیرہ، معروف نظامت کار اور سنجیدہ محقق ہیں۔اِن دنوںاندرون ملک اور بیرون ملک مشاعروں میں اِ نہیں توجہ سے سنا جا رہا ہے۔پہلے ایک غزل ’’تم بھی ناں‘‘ کا بڑا چرچا رہا۔ ابھی داد و تحسین نہیں تھمی تھی کہ ایک اور غزل ’’توبہ ہے‘‘کا ڈنکا بجنے لگا۔ نہایت پُر اعتماد…

Read More

محمد علوی ۔۔۔ کچھ تو اس دل کو سزا دی جائے

کچھ تو اِس دل کو سزا دی جائے اُس کی تصویر ہٹا دی جائے ڈھونڈنے میں بھی مزہ آتا ہے کوئی شے رکھ کے بھلا دی جائے نام لکھ لکھ کے ترا کاغذ پر روشنائی بھی گرا دی جائے ناؤ کاغذ کی بنا کر اس کو بہتے پانی میں بہا دی جائے رات کو چپکے سے اک اک گھر کی کیوں نہ زنجیر لگا دی جائے نیند میں چونک پڑے گا کوئی آؤ اس در پہ صدا دی جائے آخری سانس مہک جائے گی اس کے دامن کی ہوا دی…

Read More