راس ہے سب کو مرے خون پسینے کی مہک یعنی میں سارے گھرانے کے لئے زندہ ہوں
Read MoreMonth: 2025 مئی
ظفر اقبال
قریب آنے کی تمہید ایک یہ بھی رہی وہ پہلے پہلے ذرا فاصلے سے گزرے گا
Read Moreنوید صادق
ہم نے وقت جھیلا ہے، ہم نے دن گزارے ہیں تم سے کون پوچھے گا، جاو، جا کے سو جاو
Read Moreظفر اقبال
قصور وار نہیں پھر بھی چھپتا پھرتا ہوں وہ میرے چور ہے اور سامنے سے گزرے گا
Read Moreظفر اقبال
کچھ ایسے ٹوٹتا ہے پیڑ سے پھل کہ جیسے کوئی ناتا ٹوٹتا ہے
Read Moreجاں نثار اختر … جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائے
جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائے ہے یہی رسم تو یہ رسم اٹھا دی جائے دل کا وہ حال ہوا ہے غمِ دوراں کے تلے جیسے اک لاش چٹانوں میں دبا دی جائے انہی گل رنگ دریچوں سے سحر جھانکے گی کیوں نہ کھلتے ہوئے زخموں کو دعا دی جائے کم نہیں نشے میں جاڑے کی گلابی راتیں اور اگر تیری جوانی بھی ملا دی جائے ہم سے پوچھو کہ غزل کیا ہے غزل کا فن کیا چند لفظوں میں کوئی آگ چھپا دی جائے
Read Moreظفر اقبال
وہ دسترس سے دور سہی ، اس کے باوجود یہ ہے دماغ ، اس میں خلل ہونا چاہیے
Read Moreاقبال صفی پوری ۔۔۔ کثرتِ جلوہ سے چشمِ شوق کس مشکل میں ہے
کثرتِ جلوہ سے چشمِ شوق کس مشکل میں ہے اتنی شمعیں کب ہیں جتنی روشنی محفل میں ہے چشمِ حیراں کو کوئی جلوہ نظر آتا نہیں دل کی بیتابی یہ کہتی ہے کہ وہ محفل میں ہے شوق کی دیوانگی طے کر گئی کتنے مقام عقل جس منزل پہ تھی اب تک اسی منزل میں ہے دل نہ شامل ہو تو پھر تنہا خروشِ ساز کیا وہ تڑپ نغمے میں کب ہے جو شکستِ دل میں ہے ایک اندازِ تبسم میں ہے گم سارا چمن یہ خبر کس کو، کلی…
Read Moreخالد احمد ۔۔۔ وہ چرچا جی کے جھنجھٹ کا ہوا ہے
وہ چرچا جی کے جھنجھٹ کا ہوا ہے کہ دل کا پاسباں کھٹکا ہوا ہے وہ مصرع تھا کہ اِک گل رنگ چہرہ ابھی تک ذہن میں اٹکا ہوا ہے ہم اُن آنکھوں کے زخمائے ہوئے ہیں یہ ہاتھ ، اُس ہاتھ کا جھٹکا ہوا ہے یقینی ہے اَب اِس دل کی تباہی یہ قریہ ، راہ سے بھٹکا ہوا ہے گلوں کے قہقہے ہیں، چہچہے ہیں چمن میں اِک چمن چٹکا ہوا ہے گلہ اُس کا کریں کس دل سے، خالد! یہ دل کب ایک چوکھٹ کا ہوا ہے…
Read Moreقاضی حبیب الرحمن ۔۔۔ رباعیات
رباعیات دریائے مسائل ، تنَہ نا ہا یا ہو سب غرقۂ ساحل ، تنَہ نا ہا یا ہو سنّاٹے کا یہ جشن مبارک ، اِمشب تنہا ہے مرا دل ، تنَہ نا ہا یا ہو ٭ بے قیدِ زمانی و مکانی کوئی دل میں ہے دمکتی راجدھانی کوئی اِمکان و مُحال کے مباحث سے وَرا اے مُطربِ جاں ، رام کہانی کوئی! ٭ کیوں بند ہے راہِ زندگانی ، اَعنی وہ کیا ہوئی طبع کی روانی ، یعنی جب آتشِ اِحساس میں ڈَھل جاتے ہیں لفظ تب کِھلتے ہیں دل…
Read More