ماجد صدیقی ۔۔۔ دھچکے ابھی کتنے ہیں ابھی کھائیاں کیا کیا

دھچکے ابھی کتنے ہیں ابھی کھائیاں کیا کیا
جینا ابھی دے گا مجھے رسوائیاں کیا کیا

کچھ قطعِ رگِ جاں سے، کچھ قُلقُلِ خوں سے
بجتی ہیں محلّات میں شہنائیاں کیا کیا

خود نام پہ دھبے ہیں جو، ہاں نام پہ اُن کے
ہوتی ہیں یہاں انجمن آرائیاں کیا کیا

قوسوں میں فلک کی، خمِ ابرو میں ہَوا کے
دیکھی ہیں یہاں خلق نے دارائیاں کیا کیا

جو چھید ہوئے تھے کبھی دامانِ طلب میں
دیں دستِ غضب نے اُنھیں، پہنائیاں کیا کیا

ہٹ کر بھی ہمیں پرورشِ جاں سے ماجد
کرنی ہیں بہم اور توانائیاں کیا کیا

Related posts

Leave a Comment