شبہ طراز ۔۔۔ مون سون

پھر تمنا اُڑان بھرتی ہے
خواب آنکھوں میں پھر مچلتے ہیں
پھر پرندے ہرے سمندر پر
رنگ سارے چھڑکتے جاتے ہیں
پھر ہواؤں میں جاگتی ہے کسک
پھر کسی یاد کی سیہ آندھی
دل کے اطراف سے گزرتی ہے
ایک لمحہ کہیں پہ روتا ہے
زندگی زاویہ بدلتی ہے۔۔۔
دور کچھ پربتوں کے دامن میں
ایک بستی میں شام ڈھلتی ہے۔۔!

Related posts

Leave a Comment