تنہا کھڑے تھے جراتِ اِنکار ہم ہی تھے
ظلمت کی شب سے برسرِ پیکار ہم ہی تھے
گو اِبتدا میں نام گوارا نہ تھا انہیں
پھر یوں ہوا کہ محورِ گفتار ہم ہی تھے
جیسے کوئی چراغ ہوائوں کی زد پہ ہو
ایسے دیے کے ساتھ ہراِک بار ہم ہی تھے
اِس پار بھی گھڑے کی کہانی وفا کی تھی
اُس پار بھی وفاؤں کا معیار ہم ہی تھے
جرمِ وفا کے واسطے مشقِ ستم ہوئی
جرمِ وفا کے آخری اوتار ہم ہی تھے
ہم پر تھے حق نوائی کے الزام جا بہ جا
آخر یہی ہُوا کہ سرِدار ہم ہی تھے
