کہاں ہوں کون ہوں کیسا ہوں اور کیا ہوں میں
مجھے نہ کوئی بتائے ، یہ جانتا ہوں میں
عدو کے ساتھ عداوت نہ چل سکے گی مری
مرے عزیز محبت کا دیوتا ہوں میں
بْلا کے پاس فرشتے مجھے بٹھاتے ہیں
یہ اور بات کہ تھوڑا بہت بْرا ہوں میں
کچھ اس لئے بھی ڈراتے ہیں یہ ڈکیت مجھے
کہ ہر لْٹی ہوئی بستی کا ہمنوا ہوں میں
سلام کر کے تمہاری دراز پلکوں کو
تمہاری جھیل سی آنکھوں میں کھو گیا ہوں میں
بْروں کے ساتھ بھی اپنے تعلقات رہے
سو میں یہ کہہ نہیں سکتا کہ پارسا ہوں میں
بنانے والے نے کیسا بنا دیا تجھ کو
ترے وجود کو حیرت سے دیکھتا ہوں میں
میں اپنی اصل میں صحرا نشین ہوں لیکن
کسی کے واسطے دریا بنا ہوا ہوں میں
وہ اور شخص ہے جس نے مجھے تلاش کیا
تجھے تو راہ میں بیٹھا ہوا ملا ہوں میں
مرے قریب زمانے کے غم نہیں آتے
کہ غم گسارِ شہیدانِ کربلا ہوں میں
تمہاری بات پہ مجھ کو یقین ہے انصر
تمھی بتاؤ کہ اچھا نہیں ہوں یا ہوں میں
