غلام حسین ساجد ۔۔۔ سوچ سے ماورا اندھیرا ہے

سوچ سے ماورا اندھیرا ہے
دھوپ کی انتہا اندھیرا ہے

خواب میں جاگنا قیامت ہے
نیند کا مسئلہ اندھیرا ہے

مَیں چراغوں کا چاہنے والا
میرے حق میں دُعا اندھیرا ہے

صبح ہے، صبح کا اُجالا ہے
رات ہے، رات کا اندھیرا ہے

کارواں پاس ہے کہیں کوئی
گنگناتا ہُوا اندھیرا ہے

رات رخصت ہوئی ہے عُجلت میں
طاق پر اَدھ جلا اندھیرا ہے

آج کِس کا لہو بہایا گیا
آج تو بے بہا اندھیرا ہے

دھیرے دھیرے قدم بڑھاتا ہے
دیکھتا بھالتا اندھیرا ہے

روشنی داغ ہے مِرے دل پر
میرے حصّے میں کیا اندھیرا ہے

تُو ہے اور تیرے نور کی سرگم
مَیں ہوں اور بے نوا اندھیرا ہے

چھاؤں میں کم دِکھائی دیتا ہے
اور اِس سے بُرا اندھیرا ہے

ملگجی عکس اِک پری وش کا
کیسا اچھّا بھَلا اندھیرا ہے

اُس پری کے غلام ہیں ساجدؔ
کیا اُجالا ہے، کیا اندھیرا ہے!

Related posts

Leave a Comment