اظہر عباس ۔۔۔ منزل الجھ گئی ہے میاں راستے سمیت

منزل الجھ گئی ہے میاں راستے سمیت
ہم پھر بھی چل رہے ہیں اسی سانحے سمیت

دنیا میں کچھ نہیں ہے سوائے وصال کے
تجھ کو زمیں میں گاڑ دوں اس فلسفے سمیت؟

اس میں لکھا ہوا ہے سبھی برج ہیں خلاف
تو پھر بھی ہے قبول اسی زائچے سمیت

سننے میں آ رہا ہے کہ تو عالی ظرف ہے
اے ہجر! دے پناہ مجھے قہقہے سمیت
دو دو عطا ہوئی ہیں یہ شاید اسی لیے
دیکھیں گی تجھ کو ساتھ میں آئے ہوئے سمیت

پھر ہم بھی مان لیں گے مصور ترا کمال
تصویر گر بنا دے مری واقعے سمیت

لے دیکھ تیرے حکم کی تعمیل ہو گئی
تجھ کو بھلا دیا ہے ترے ذائقے سمیت

Related posts

Leave a Comment