سعود عثمانی۔۔۔ نکالتے رہے یہ لوگ خامیاں مجھ میں

نکالتے رہے یہ لوگ خامیاں مجھ میں
اور اس کے بعد بچیں صرف خوبیاں مجھ میں

میں ایک عمر یہاں جس مکاں میں رہتا رہا
اب ایک عمر سے رہتاہے وہ مکاں مجھ میں

سنا نہیں تھا کہ پت جھڑ بھی سبز ہوتی ہو
مگر یہ پھول کھلا اور ناگہاں مجھ میں

طلوع ہوتا ہے سورج غروب ہوتے ہوئے
یہ رات جلنے لگی ہے یہاں وہاں مجھ میں

سفر سے آتا ہوا ‘ بکریاں چراتا ہوا
سعود کوئی گڈریا ہے نغمہ خواں مجھ میں

Related posts

Leave a Comment