سید آل احمد ۔۔۔ دھوپ اور چھاؤں کا کربِ ذات لکھتا تھا

دھوپ اور چھاؤں کا کربِ ذات لکھتا تھا دیدہ ور تھا دوری کو اختلاط لکھتا تھا زخم زخم گنتا تھا روشنی میں جگنو کی حرف حرف پلکوں پر سچی بات لکھتا تھا میں بھی ان خلاؤں میں ایک لحظہ پہلے تک خواب کا مسافر تھا‘ خواہشات لکھتا تھا صبحِ جاں کی شبنم ہو‘ دُھوپ ہو بدن کی تم سچ بتاؤ یہ جملے کس کا ہات لکھتا تھا برگِ زرد ہونے تک میں ہوا کی تختی پر منتظر نگاہوں سے التفات لکھتا تھا پوچھتے ہیں بام و در‘ کون‘ شہر ناپرساں!…

Read More

استاد قمر جلالوی

ایک جا رہنا نہیں لکھا میری تقدیر میں آج گر صحرا میں ہوں کل خانۂ زنجیر میں اقربا نا خوش وہ بزمِ دشمنِ بے پیر میں موت ہی لکھی ہی کیا بیمار کی تقدیر میں بات کر میری لحد پر غیر ہی سے بات کر یہ سنا ہے پھول جھڑتے ہیں تری تقریر میں سیکھ اب میری نظر سے حسن کی زیبائشیں سینکڑوں رنگینیاں بھر دیں تری تصویر میں پاسِ آدابِ اسیری تیرے دیوانے کو ہے ورنہ یہ زنجیر کچھ زنجیر ہے زنجیر میں ڈھونڈتا پھرتا ہوں ان کو وہ…

Read More

سید مقبول حسین

کوئی بُت بھی نہیں ہے آستیں میں گماں کے سانپ پلتے ہیں یقیں میں یہ کیسے لوگ بستے ہیں یہاں پر ہمیں رکھیں نگاہِ خشمگیں میں دما دم ہو رہی ہے ہر گھڑی اب یہ کیسے اژدھے ہیں آستیں میں دِلا حُسنِ نظر کا سب ہے جادو بڑا ہی ناز ہے اس نازنیں میں ستارے بھی دمکنے لگ گئے ہیں قمر ایسا کِھلا ہے چودھویں میں پھلے پھولے یہ پاکستان سیّد اسے پایا دعائے مرسلیں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ستارہ تو یونہی افلاک کے چکر میں رہتا ہے ہمیشہ رات کا منظر…

Read More

حمزہ یعقوب

کون سی شے نہیں پگھلے گی تپش سے میری روشنی راہ بدلتی ہے، کشش سے میری آئنہ عکس نہیں دیکھ سکے گا اپنا تو بتا، کیا نظر آتا ہے روش سے میری مٹ گئے سب کے لیے معنی و حسن و امید مختلف کچھ بھی نہیں تیری خلش سے میری چھوڑنا پڑ گیا اک روز مرا دل اس کو کم نکل آئی کشش، ردِکشش سے میری نفع تو خیر مجھے پہلے بھی کیا چاہیے تھا پر جو نقصان ہوا داد و دہش سے میری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ سادہ لوح نہ ہشیار…

Read More

محمد امجد حسین

اک اسی کا سوال تھے ہم بھی کس قدر با کمال تھے ہم بھی ہم اسیرانِ غم کے چہرے پڑھ غم کی زندہ مثال تھے ہم بھی سانس لینا بھی مسئلہ تھا ہمیں وہ بھی غم سے نڈھال تھے‘ ہم بھی ایک دشمن کی موت پر صاحب جانے کیوں پُر ملال تھے ہم بھی وہ بھی تھے بوجھ سر کا اے امجد اور جاں کا وبال تھے ہم بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خواب کا سلسلہ نہیں معلوم درد کا راستہ نہیں معلوم غمِ دوراں ہو یا غمِ جاناں مجھ کو اپنا پتہ…

Read More

طارق جاوید ۔۔۔ مکانِ دل میں کوئی بھی مکیں نہیں مرے دوست

مکانِ دل میں کوئی بھی مکیں نہیں مرے دوست ٹھہر کے دیکھ تجھے گر یقیں نہیں مرے دوست میں اس لئے بھی تری خیر مانگتا ہوں بہت تمام شہر میں تجھ سا حسیں نہیں مرے دوست یہ رفتگاں تو کہیں اور ہی مقیم ہوئے تلاش کر لے یہ زیر زمیں نہیں مرے دوست وہ کس لئے مرے بارے میں رائے دیتا ہے جب اس کا ذکر ادب میں کہیں نہیں مرے دوست جو سچ کے نور سے روشن دکھائی دیتی ہے مری جبیں ہے یہ تیری جبیں نہیں مرے دوست…

Read More

حسن عباس رضا ۔۔۔ ہو چکا آخری اعلان‘ مجھے جانا ہے

ہو چکا آخری اعلان‘ مجھے جانا ہے راستہ دے دو مری جان! مجھے جانا ہے میں نے ہر بات دل و جان سے مانی اس کی یہ بھی تو اس کا ہے فرمان، مجھے جانا ہے آخری حکم ہے‘ تعمیل تو کرنی ہو گی چاہے جیسا بھی ہو نقصان‘ مجھے جانا ہے وقت کم ہے ، سو تمہیں صاف کہے دیتا ہوں اب نہ کرنا کوئی احسان ، مجھے جانا ہے راستہ شہرِ خموشاں کا دکھا دو کہ وہاں کچھ دنوں بعد بصد شان مجھے جانا ہے آئنہ خانوں میں…

Read More

خورشید ربانی ۔۔۔ دل و نظر میں شجر ہیں ، گل و ثمر ہیں مرے

دل و نظر میں شجر ہیں ، گل و ثمر ہیں مرے چلا ہوں گھر سے تو کچھ خواب ہم سفر ہیں مرے ہوائے شہر سے مل کر وہ بھول بھال گیا کہ منتظر کسی گاؤں میں بام و در ہیں مرے بدن جلاتی چلی جا رہی ہے دھوپ مرا اور اُس پہ ظلم کہ بادل بھی بے خبر ہیں مرے ہوا چلی تو یہ اُڑتے پھریں گے شہر بہ شہر چمن میں بکھرے ہوئے جو شکستہ پر ہیں مرے زمیں کا بوجھ سمجھ کر گرا نہیں دینا کہ چھاؤں…

Read More

شاہین عباس ۔۔۔ دن کھا گئے شب سرا ہماری

دن کھا گئے شب سرا ہماری گھر واپسی ہے یہ کیا ہماری گزرا بھی نہیں قریب سے وہ مٹی بھی اُڑا گیا ہماری اے کوہِ وجود پھر سے اک بار آواز نکالنا ہماری ہر کوچ ہمارا کوچ نکلا زندہ رہے خاکِ پا ہماری ہم کیسے برہنہ تھے‘ کہاں تھے رکھی ہی رہی قبا ہماری ہم بولنے بھی لگیں گے اک دن تم سنتے رہو صدا ہماری جیسے کہ شروعِ عشق اچانک کچھ ایسی تھی ابتدا ہماری تم روشنی کرکے جا چکے تھے تربت کوئی دیکھتا ہماری

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ جب بھی تتلی نے کسی پھول پہ پَر چھوڑ دیا

جب بھی تتلی نے کسی پھول پہ پَر چھوڑ دیا اشک بے کل نے مری آنکھ کا گھر چھوڑ دیا درد و احساس بھی لشکر ہے کہ جس نے، اکثر کرکے دل زار مرا زیر و زبر چھوڑ دیا خود کو پتوں میں چھپاتے ہیں وہ پنچھی ، جن کو آگ جنگل میں لگی کاٹ کے پر چھوڑ دیا میرے یاروں کی طرح تیز ہوا میں دیکھو خشک پتّوں نے ثمربار شجر چھوڑ دیا ضعفِ بازو نہ سمجھ اور محبت پہچان تیغ نفرت کی بھی چھوڑی تھی تبر چھوڑ دیا…

Read More