محسن اسرار ۔۔۔ گزر چکا ہے زمانہ وصال کرنے کا

گزر چکا ہے زمانہ وصال کرنے کا یہ کوئی وقت ہے تیرے کمال کرنے کا برا نہ مان جو پہلو بدل رہا ہوں میں مرا طریقہ ہے یہ عرضِ حال کرنے کا یہ ہم جو عشق میں بیمار پڑتے رہتے ہیں یہ اک سبب ہے تعلق بحال کرنے کا عجیب شخص تھا لوٹا گیا مرا سب کچھ معاوضہ نہ لیا دیکھ بھال کرنے کا

Read More

احمد فراز ۔۔۔ زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے

زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے تو محبت سے کوئی چال تو چل ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے دل دھڑکتا نہیں، ٹپکتا ہے کل جو خواہش تھی آبلہ ہے مجھے ہم سفر چاہیئے، ہجوم نہیں اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے کوہ کن ہو کہ قیس ہو کہ فراز سب میں اک شخص ہی ملا ہے مجھے

Read More

فانی بدایونی ۔۔۔ آنکھ اٹھائی ہی تھی کہ کھائی چوٹ

آنکھ اٹھائی ہی تھی کہ کھائی چوٹ بچ گئی آنکھ دل پہ آئی چوٹ دردِ دل کی انہیں خبر کیا ہو جانتا کون ہے پرائی چوٹ آئی تنہا نہ خانۂ دل میں درد کو اپنے ساتھ لائی چوٹ تیغ تھی ہاتھ میں نہ خنجر تھا اس نے کیا جانے کیا لگائی چوٹ یوں نہ قاتل کو جب یقیں آیا ہم نے دل کھول کر دکھائی چوٹ اور کیا کرتے ہم بلا کشِ غم جو پڑی دل پہ وہ اٹھائی چوٹ کہیں چھپتی بھی ہے لگی دل کی لاکھ فانی نے…

Read More

محمد علوی ۔۔۔

میں اپنا نام ترے جسم پر لکھا دیکھوں دکھائی دے گا ابھی بتیاں بجھا دیکھوں پھر اس کو پاؤں مرا انتظار کرتے ہوئے پھر اس مکان کا دروازہ ادھ کھلا دیکھوں گھٹائیں آئیں تو گھر گھر کو ڈوبتا پاؤں ہوا چلے تو ہر اک پیڑ کو گرا دیکھوں کتاب کھولوں تو حرفوں میں کھلبلی مچ جائے قلم اٹھاؤں تو کاغذ کو پھیلتا دیکھوں اُتار پھینکوں بدن سے پھٹی پرانی قمیص بدن قمیص سے بڑھ کر کٹا پھٹا دیکھوں وہیں کہیں نہ پڑی ہو تمنا جینے کی پھر ایک بار انھی…

Read More

احمد مشتاق ۔۔۔ مل ہی آتے ہیں اسے ایسا بھی کیا ہو جائے گا

مل ہی آتے ہیں اسے ایسا بھی کیا ہو جائے گا بس یہی نا درد کچھ دل کا سوا ہو جائے گا وہ مرے دل کی پریشانی سے افسردہ ہو کیوں دل کا کیا ہے کل کو پھر اچھا بھلا ہو جائے گا گھر سے کچھ خوابوں سے ملنے کے لیے نکلے تھے ہم کیا خبر تھی زندگی سے سامنا ہو جائے گا رونے لگتا ہوں محبت میں تو کہتا ہے کوئی کیا ترے اشکوں سے یہ جنگل ہرا ہو جائے گا کیسے آ سکتی ہے ایسی دل نشیں دنیا…

Read More

نظام رامپوری ۔۔۔ کبھی ملتے تھے وہ ہم سے، زمانہ یاد آتا ہے

کبھی ملتے تھے وہ ہم سے، زمانہ یاد آتا ہے بدل کر وضع چھپ کر شب کو آنا یاد آتا ہے وہ باتیں بھولی بھولی اور وہ شوخی ناز و غمزہ کی وہ ہنس ہنس کر ترا مجھ کو رلانا یاد آتا ہے گلے میں ڈال کر بانہیں وہ لب سے لب ملا دینا پھر اپنے ہاتھ سے ساغر پلانا یاد آتا ہے بدلنا کروٹ اور تکیہ مرے پہلو میں رکھ دینا وہ سونا آپ اور میرا جگانا یاد آتا ہے وہ سیدھی الٹی اک اک منہ میں سو سو…

Read More

محمد علوی ۔۔۔ منہ زبانی قرآن پڑھتے تھے

منہ زبانی قرآن پڑھتے تھے پہلے بچے بھی کتنے بوڑھے تھے اک پرندہ سنا رہا تھا غزل چار چھ پیڑ مل کے سنتے تھے جن کو سوچا تھا اور دیکھا بھی ایسے دو چار ہی تو چہرے تھے اب تو چپ چاپ شام آتی ہے پہلے چڑیوں کے شور ہوتے تھے رات اترا تھا شاخ پر اک گل چار سو خوشبوؤں کے پہرے تھے آج کی صبح کتنی ہلکی ہے یاد پڑتا ہے رات روئے تھے یہ کہاں دوستوں میں آ بیٹھے ہم تو مرنے کو گھر سے نکلے تھے…

Read More

نظام رامپوری ۔۔۔ وہی لوگ پھر آنے جانے لگے

وہی لوگ پھر آنے جانے لگے مرے پاس کیوں آپ آنے لگے کوئی ایسے سے کیا شکایت کرے بگڑ کر جو باتیں بنانے لگے یہ کیا جذبِ دل کھینچ لایا انھیں مرے خط مجھے پھر کے آنے لگے ابھی تو کہا ہی نہیں میں نے کچھ ابھی تم جو آنکھیں چرانے لگے ہمارے ہی آگے گلے غیر کے ہماری ہی طرزیں اڑانے لگے نہ بن آیا جب ان کو کوئی جواب تو منہ پھیر کر مسکرانے لگے

Read More

محمد علوی ۔۔۔ آفس میں بھی گھر کو کھلا پاتا ہوں میں

آفس میں بھی گھر کو کھلا پاتا ہوں میں ٹیبل پر سر رکھ کر سو جاتا ہوں میں گلی گلی میں اپنے آپ کو ڈھونڈتا ہوں اِک اِک کھڑکی میں اُس کو پاتا ہوں میں اپنے سب کپڑے اس کو دے آتا ہوں اس کا ننگا جسم اٹھا لاتا ہوں میں بس کے نیچے کوئی نہیں آتا پھر بھی بس میں بیٹھ کے بے حد گھبراتا ہوں میں مرنا ہے تو ساتھ ساتھ ہی چلتے ہیں ٹھہر ذرا گھر جا کے ابھی آتا ہوں میں گاڑی آتی ہے لیکن آتی…

Read More

محمد علوی ۔۔۔ سچ ہے کہ وہ برا تھا ہر اک سے لڑا کیا

سچ ہے کہ وہ برا تھا ہر اک سے لڑا کیا لیکن اُسے ذلیل کیا یہ برا کیا گلدان میں گلاب کی کلیاں مہک اٹھیں کرسی نے اُس کو دیکھ کے آغوش وا کیا گھر سے چلا تو چاند مرے ساتھ ہو لیا پھر صبح تک وہ میرے برابر چلا کیا کوٹھوں پہ منہ اندھیرے ستارے اُتر پڑے بن کے پتنگ میں بھی ہوا میں اُڑا کیا اُس سے بچھڑتے وقت میں رویا تھا خوب سا یہ بات یاد آئی تو پہروں ہنسا کیا چھوڑو پرانے قصوں میں کچھ بھی…

Read More