ڈاکٹر فخر عباس ۔۔۔ جن کی تعریف کئی اہلِ زباں کرتے ہیں

جن کی تعریف کئی اہلِ زباں کرتے ہیں وہ ترے ذکر سے مصرعوں کو رواں کرتے ہیں کون سی راہ پہ چلنا ہے، بتاتے ہی نہیں بات سیدھی یہ مرے دوست کہاں کرتے ہیں کیا عجب، حشر میں مل جائے وہ نیکی بن کر لوگ جس کفر کا اب مجھ پہ گماں کرتے ہیں ایسا آساں تو نہیں چیخنا چلّانا بھی درد ہوتا ہے تو ہم آہ و فغاں کرتے ہیں شاید ایسے ہی غمِ دہر سے جاں چُھوٹتی ہے خود کو آباد کسی اور جہاں کرتے ہیں

Read More

خورشید ربانی ۔۔۔ اور تجھ سے، مجھ کو اسبابِ سفر کیا چاہیے

اور تجھ سے، مجھ کو اسبابِ سفر کیا چاہیے میں مسافر ہوں‘ زمانے! مجھ کو رستہ چاہیے تیرے ہاتھوں سے جلیں یا میرے ہاتھوں سے چراغ شہر میں بس روشنی کو عام ہونا چاہیے بے سرو سامان مجھ سا شہر میں کوئی نہیں بے در و دیوار گھر کو مجھ سے اور کیا چاہیے مجھ پہ گزری کیا قیامت ،تجھ کو اِس سے کیا غرض تجھ کو تو ہنگامہ پرور حشر برپا چاہیے چھوڑ کر تنہا تمھیں کیوں سب پرندے اُڑ گئے خشک جھیلو ! آئنہ تم کو بھی دیکھا…

Read More

عزیز فیصل ۔۔۔ چاندنی میں نہائی ہوئی وحشتیں، جب مرے رَتجگوں میں سرایت کریں

چاندنی میں نہائی ہوئی وحشتیں، جب مرے رَتجگوں میں سرایت کریں دُور پھیلے ہوئے درد کے سلسلے، میری آنکھوں کو آنسو عنایت کریں ایسے فریادیوں نے مِرے شہر میں، امن کے پیڑ کتنے ہی پیلے کیے جا کے آکاس بیلوں کے دربار میں، پَت جھڑوں کے ستم کی شکایت کریں وضع داری کی اِس بدنُما رِیت، سے ‘صورت ِشہر کتنی ہے بگڑی ہوئی عکس ِجاں کھو کے بھی، کرچیاں ہو کے بھی، آئنے پتّھروں کی حمایت کریں عشق لے کر ہمیں چل پڑا ہے جہاں، دلبری کا گماں تک نہیں…

Read More

آفتاب خان ۔۔۔ سینے کی تہ میں دل سے اچانک دھواں اُٹھا

سینے کی تہ میں دل سے اچانک دھواں اُٹھا پہلو سے میرے جب وہ مرا مہرباں اُٹھا واجب ہوئی ہیں آنکھ پہ تب اشک باریاں جس روز بزمِ دل سے کوئی ہم زباں اُٹھا دیکھی گئیں نہ اُس سے نئی نِت صراحیاں چپ چاپ مے کدے سے وہ پیرِ مغاں اُٹھا باہر تو خیریت ہے، بس اندر ہے ابتری دیکھا نہ وہ کسی نے، جو سوزِ نہاں اُٹھا ہوتا نہیں کسی پہ بھی واعظ کا کچھ اثر جاتی رہی مٹھاس تو لطفِ بیاں اُٹھا سب دیکھتے رہے ہیں، سہارا نہیں…

Read More

آفتاب خان ۔۔۔ قدیم گھر کے در و بام درج کرتا ہوں

قدیم گھر کے در و بام درج کرتا ہوں میں بیچنے کے لیے دام درج کرتا ہوں نہ مِل سکے گا خریدار دل کی بستی کا جو بِک چکے ہیں، وہ گلفام درج کرتا ہوں لہو نچوڑ کے تن کے شکستہ برتن میں میں اپنی زیست کے آلام درج کرتا ہوں اس اہتمام سے یہ زندگی گزاری ہے جو آج کرنے ہیں وہ کام درج کرتا ہوں فلک سے مجھ پہ اُترتے ہیں جو حر وفِ سخن میں شاعری کے وہ الہام درج کرتا ہوں جو اُس کو کہنا تھا،…

Read More

شاہد ماکلی ۔۔۔ اپنی حالت کو مشتہر کر کے

اپنی حالت کو مشتہر کر کے لاپتہ ہو گئے خبر کر کے نت نئے تجربوں سے گزرے ہم نت نئی زندگی بسر کر کے کارواں سے چھڑا لیا پیچھا ایک منزل کو رہگزر کر کے چار دیواری ہے عناصر کی جس میں داخل ہوئے ہیں در کر کے کس میں کتنی چمک ہے، جان لیا اک رصَد گاہ سے نظر کر کے خضر آبِ حیات تک پہنچا بحرِ مُردار سے گزر کر کے دن ہمارے ہیں جوں کے توں شاہد کیا ملا وقت میں سفر کر کے

Read More

عرفان صادق ۔۔۔ مایوسی کی گہرائی میں اور اضافہ ہو جاتا ہے

مایوسی کی گہرائی میں اور اضافہ ہو جاتا ہے آنکھ میں آنسو آجائیں تو منظر دھندلا ہو جاتا ہے ہجر کو خود پہ اوڑھ کے چلنے والے بات یہ جان چکے ہیں خوش خوش باتیں کرتا بندہ گونگا بہرا ہو جاتا ہے چھوڑ کے جانے والے تجھ کو یاد دلانا تھا بس اتنا پیڑ گرے تو ڈالی ڈالی پتہ پتہ ہو جاتا ہے دل کی باتیں کرنا سننا لوگو بہت ضروری ٹھہرا کمرے کی کھڑکی نہ کھلے تو حبس زیادہ ہو جاتا ہے عشق کی راہ پہ چلنے والے لوگ…

Read More

جاوید قاسم ۔۔۔ آنکھ کی کھڑکیوں میں بھر کے مجھے

آنکھ کی کھڑکیوں میں بھر کے مجھے زخم دیتا ہے وہ نظر کے مجھے ہجر کی ساعتوں میں رکھتا ہے اک زمانہ تلاش کر کے مجھے حبس اترا ہے یوں رگ وپے میں چھو رہی ہے ہوا بھی ڈر کے مجھے جب بھی دیکھا فلک کے آ نگن میں نقش دھندلے ملے سحر کے مجھے روز کے اب یہ میہماں قاسم فرد لگتے ہیں اپنے گھر کےمجھے —

Read More

حمیدہ شاہین ۔۔۔ اُگتے ہوئے نہ روند ، لگے مت خراب کر

اُگتے ہوئے نہ روند ، لگے مت خراب کر تو زرد ہے تو سب کے ہَرے مت خراب کر اپنی کڑی سے کاٹ خرابی کا سلسلہ پہلے ہوئے نبیڑ ، نئے مت خراب کر جو جس مقام پر ہے اُسے بے سبب نہ چھیڑ بکھرے ہوئے سمیٹ ، پڑے مت خراب کر چھُونے کے بھی اصول ہیں ، ہر شاخ کو نہ چھُو چھدرے تو منتظر ہیں ، گھنے مت خراب کر جو فطرتاً خراب ہیں ان کا تو حل نہیں جو ٹھیک مل گئے ہیں تجھے مت خراب کر…

Read More

وحید اختر واحدؔ ۔۔۔ ابنِ آدم پر عیاں ہیں وقت کی جتنی جہات

ابنِ آدم پر عیاں ہیں وقت کی جتنی جہات ماسوا ان کے قسم کھاتا ہے پیرِ کائنات * ساعتیں ہیں وقت سے آزاد جیون کا ڈرافٹ آخرت پر کر رہا ہوں زندگی میں تجربات وقتِ کی معلوم ہیئت کُن کا پیراڈاکس* ہے آفرینش، حشر دونوں ایک جیسے حادثات وقت کی معلوم ہیئت مہلتِ پروردگار وقت کے اسرار سے ہے ماورا بھی کائنات وقت جبرائیل کے ہاتھوں میں فیری ڈسٹ* ہے وقت میکائیل کے ہاتھوں میں نم، شاخِ نبات دستِ عزرائیل ہو یا صورِ اسرافیل ہو وقت کی دنیاوی ہیئت سے…

Read More