کام کرنے کے سلیقے سے ہم آگاہ نہیں اور کیا آتا ہے بس بے ہنری آتی ہے
Read MoreCategory: آج کا شعر
راحت اندوری
شہر کیا دیکھیں کہ ہر منظر میں جالے پڑ گئے ایسی گرمی ہے کہ پیلے پھول کالے پڑ گئے
Read Moreمحسن اسرار
مجھے ملال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے مگر یہ حال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے
Read Moreادا جعفری
نہ بہلاوا نہ سمجھوتا جدائی سی جدائی ہے اداؔ سوچو تو خوشبو کا سفر آساں نہیں ہوتا
Read Moreاحمد حسین مائل
میرا سلام عشق علیہ السلام کو خسرو اِدھر خراب، اُدھر کوہکن خراب
Read Moreخالد احمد
مسمار کر چلے ، مرے معمار کیوں مجھے کچھ نقص مجھ میں تھا کہ مرے بانیوں میں تھا
Read Moreنجیب احمد
خیمۂ جاں کی طنابوں کو اکھڑ جانا تھا ہم سے اک روز ترا غم بھی بچھڑ جانا تھا
Read Moreاسماعیل میرٹھی
کی ہے زاہد نے آپ دنیا ترک یا مقدر میں اس کے تھی ہی نہیں
Read Moreراحت اندوری
اجنبیت کی بستی میں بقا کی تمنا لیے، شاعر نے دشمنوں کے درمیان دل تھام کر قدم رکھا ہے۔
جہاں ہمدردوں کی گنتی انگلیوں پر ہو، وہاں ہر سانس بھی گویا جرأتِ اظہار کا استعارہ بن جاتی ہے۔
برق دہلوی
کنجِ قفس سے ہائے رہائی نہ ہو سکی ہر چند عندلیب نے مارے ہزار پر
Read More