صفدر صدیق رضی ۔۔۔ 1985

ہر شخص خیال و خواب ہوا ہر چہرہ نقش بر آب ہوا ہر شعلۂ گل برفاب ہوا ہم جن کے لیے بدنام ہوئے وہ سارے عشق تمام ہوئے اب موجِ ہوا کا ساتھ نہیں وہ ابر نہیں برسات نہیں وہ چاند نہیں وہ رات نہیں کام آئے یا ناکام ہوئے وہ سارے عشق تمام ہوئے دامن پر کوئی داغ نہیں اب طاق میں کوئی چراغ نہیں اس دل کا کہیں سراغ نہیں جس کے افسانے عام ہوئے اب سارے عشق تمام ہوئے اب اور کسی کا ساتھ نہیں اب ہاتھ…

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ کدھر کھلتا ہے در کوئی

کدھر کھلتا ہے در کوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گزرتا ہی نہیں ہے وقت جبری چھٹیوں کا ایک اک لمحہ صدی جیسا گھریلو کھیل کوئی کب تلک کھیلے کسی تقریب میں شرکت تو کیا گھر سے نکلنے کی اجازت ہی نہیں ہے اپنے پیاروں کے بھی چہروں سے دل اکتانے لگے ہیں بھولتے جاتے ہیں سب آداب جو تہذیب کا حاصل تھے سرمایہ تھے خوش آہنگ بہتی زندگی کا فاصلہ تو فاصلہ ہے صرف جسموں تک نہیں رہتا اتر جاتا ہے روحوں میں ملاقاتوں کے آئینے چِھنے تو اپنی پہچانیں بھی کھو بیٹھے…

Read More

اختر حسین جعفری ۔۔۔ امتناع کا مہینہ

امتناع کا مہینہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس مہینے میں غارت گری منع تھی، پیڑ کٹتے نہ تھے، تیر بکتے نہ تھے بہرِ پرواز محفوظ تھے آسماں بے خطر تھی زمیں مستقر کے لیے اس مہینے میں غارت گری منع تھی یہ پرانے صحیفوں میں مذکور ہے قاتلوں، رہزنوں میں یہ دستور تھا، اس مہینے کی حرمت کے اعزاز میں دوش پر گردنِ خم سلامت رہے کربلاؤں میں اترے ہوئے کاروانوں کی مشکوں کا پانی امانت رہے میری تقویم میں بھی مہینہ ہے یہ اس مہینے کئی تشنہ لب ساعتیں، بے گناہی کے…

Read More

مصطفیٰ زیدی ۔۔۔ صنم خانے

صنم خانے ۔۔۔۔۔۔۔۔ سچ یہ ہے کہ وہ غم بھی رہا شاملِ امروز جس غم میں نہ تخلیق، نہ تعمیر ،نہ پرواز جو گنبدِ آفاق کی ہمرَاز رہی تھی دیوار سے ٹکرا کے پلٹ آئی وہ آواز اب سنگِ سُبک مایہء زنداں بھی نہیں ہیں آئینہء زلف و لب و مژگاں تھے جو الفاظ جس طبع کے دامن میں تھے اٹھتے ہوئے خورشید وہ ڈوبتے مہتاب کی کرنوں سے بھی ناراض ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے نزہتِ مہتاب! امروز، کہ سڑکوں کے چراغاں میں کٹا تھا امروز، کہ تھا رنگ و رُخ و نور…

Read More

حمایت علی شاعر ۔۔۔ ایشیا

ایشیا۔۔۔۔۔۔آخرش جاگ اُٹھا وقت کا خوابیدہ شعورشب کے پروردہ اندھیروں کا فسوں ٹوٹ گیااِک کرن پھوٹ کے چمکا گئی مشرق کا نصیبدستِ اوہام سے ہر دامنِ دل چھوٹ گیاکل تلک سرد تھی جن ذروں کے احساس کی آگآج تپ تپ کے وہ خورشید ہوئے جاتے ہیںجن کو روندا گیا صدیوں وہی مجبور عوامانقلابات کی تمہید ہوئے جاتے ہیںلاکھ پھینکے شبِ تاریک سویرے پہ کمندکارواں صبح کا بڑھتا ہی چلا جائے گااپنے ہمراہ لیے سینکڑوں کرنوں کا جلوسوسعتِ عالمِ آفاق پہ چھا جائے گا

Read More

اکرم ناصر ۔۔۔ کربلا والوں کے لیے

اک حشر کا سماں تھا ، کنارے فرات کے ہر شخص نوحہ خواں تھا ، کنارے فرات کے اک ضد لگی ہوئی تھی ،کہ بہنا ہے ساتھ ساتھ دریائے خوں رواں تھا ، کنارے فرات کے خنجر کا ، خوں کا ، خاک کا ، پانی کا ، پیاس کا ہر شے کا امتحاں تھا ، کنارے فرات کے گنتی کے جانثار تھے ، پر جانثار تھے انبوہِ دشمناں تھا ، کنارے فرات کے آنکھوں سے دیکھ کر بھی زمیں پر گرا نہیں یہ کیسا آسماں تھا ، کنارے فرات…

Read More

حمایت علی شاعر ۔۔۔ بابِ علم

بابِ علم۔۔۔۔۔۔۔بے اماں زمین پر، سایۂ اماں تھا وہایک اور آسماں، زیر آسماں تھا وہآئینہ در آئینہ، اس کا عکس دیکھناسوچنا کہ فرد تھا کہ ایک کارواں تھا وہوہم اور گمان کی، گھپ سیاہ رات میںمشعلِ یقیں تھا وہ، صبح کی اذاں تھا وہحرف و لب کے درمیان جب بھی فاصلے بڑھےخامشی گواہ ہے، عہد کی زباں تھا وہوہ جسے کہا گیا، باب شہر علم کااپنے لفظ لفظ میں علم کا جہاں تھا وہدیکھیے تو آدمی، سوچیے تو اور کچھیعنی ایک بوند میں، بحرِ بیکراں تھا وہ

Read More

فہمیدہ ریاض ۔۔۔ انتساب ۔۔۔ ۲

انتساب ۔۔۔ ۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید کہ قول خاک سے ہارا قلم مرا تا عمر صرف حرفِ تمنا رقم کیا جی کو ضد کہ آج تو خوں ناب روئیے یہ قطرۂ سر شک سے بوٹے بنا گیا پت جھڑ میں ضد رہی کہ لکھے نو بہار رنگ تقدیر تو سیاہ تھی تحریر کی مری یہ اُس کا حوصلہ ہے کہ پھوٹے ہزار رنگ کیا بے قرار رنگ!

Read More

مظہر حسین مظہر ۔۔۔ عقیدت (محسنِ اُردو ادب، عظیم محقق، عالی مرتبت استاذ اور نامور نقاد سید عبداللہ کی برسی پر)

عقیدت (محسنِ اُردو ادب، عظیم محقق، عالی مرتبت استاذ اور نامور نقاد سید عبداللہ کی برسی پر) آسمانِ ملکِ اردو کے درخشاں آفتاب سید عبداللہ تیری ذات ہے عالی صفات خار زارِ نقد کو تو نے بنایا گل ستاں کردیا تنقید کو تخلیق کا یوں ہم زباں فارسی کے پاسباں،اردو ادب کے نغمہ خواں ہر محقق ہے تمہارے وصف میں رطب اللساں سید عبد اللہ تیری ذات ہے عالی صفات تو نے اردو کے چمن میں جو اگائے ہیں گلاب ختم ہونے کی نہیں ان کی مہک ان کا شباب…

Read More

حمیرا راحت ۔۔۔ واٹس ایپ

یہ ہیلو ہائے کی دنیا۔۔۔ یہاں پر ہرنئے پل اِک شناسائی ہمارا ہاتھ تھامے ربط کو مضبوط کرتی ہے یہاں پر جھوٹ چھُپ جاتا ہے اکثر سچ کے چہرے میں ایموجیز اور جی آئی ایف کی دنیاؤں میں ہم تم سانس لیتے ہیں ہمارے دل میں بہتے درد کو یا پھر ہمکتی اِک خوشی ، بے چارگی اور بے بسی کو اب انھی بے جان اشیا کی ضرورت ہے یہ کچھ رنگین اسٹیکر تاثر ، لفظ ، جذبے اور لہجے کے امیں ٹھہرے مقید ہو چکے ہیں ہم انھی مصنوعی…

Read More