جادہِ عشق میں تابندہ علم تیرے ہیں کیا بتائیں ہمیں کیا نقشِ قدم تیرےؐ ہیں دوسرا کون ہے اس شان کا ممدوح کوئی وصف جیسے سرِ قرطاس و قلم تیرے ہیں مالکِ کُل نے کیا والی و مختار تجھے یہ جہاں تیرا ہے فردوس و ارم تیرےؐ ہیں اک تریؐ دُھن ہے ہمارے لیے آہنگِ حیات شوق سینے میں بہم آنکھ میں نم تیرےؐ ہیں دل کسی موسم و ماحول کا محتاج نہیں ہوں کسی حال میں بھی ہم ہمہ دم تیرےؐ ہیں کیا مجال آنکھ اٹھے اپنی کسی اور…
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ جب تک کہ طبیعت سے طبیعت نہیں ملتی
جب تک کہ طبیعت سے طبیعت نہیں ملتی ہوں پیار کی باتیں بھی تو لذت نہیں ملتی آرام گھڑی بھر کسی کروٹ نہیں ملتا راحت کسی پہلو شب فرقت نہیں ملتی جب تک وہ کھنچے بیٹھے ہیں دل ان سے رکا ہے جب تک نہیں ملتے وہ طبیعت نہیں ملتی جیتے ہیں تو ہوتی ہے ان آنکھوں سے ندامت مرتے ہیں تو اس لب سے اجازت نہیں ملتی اس زہد پر نازاں نہ ہو زاہد سے یہ کہہ دو تسبیح پھرانے ہی سے جنت نہیں ملتی کیا ڈھونڈھتے ہیں گور…
Read Moreگوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ دریا میں یہ ناؤ کس طرف ہے … गौहर होशियारपुरी
دل سلسلۂ شوق کی تشہیر بھی چاہے زنجیر بھی آوازۂ زنجیر بھی چاہے آرام کی صورت نظر آئے تو کچھ انساں نیرنگ شب و روز میں تغییر بھی چاہے سودائے طلب کو نہ توکل کے عوض دے یہ شرط تو خود خالق تقدیر بھی چاہے لازم ہے محبت ہی محبت کا بدل ہو تصویر جو دیکھے اسے تصویر بھی چاہے اک پل میں بدلتے ہیں خد و خال لہو کے آنکھ اپنے کسی خواب کی تعبیر بھی چاہے لہجہ تو بدل چبھتی ہوئی بات سے پہلے تیر ایسا تو کچھ…
Read Moreگوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ اپنا دکھڑا کہتے ہیں ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
اپنا دکھڑا کہتے ہیں اور تجھے کیا کہتے ہیں کچی کونپل ہوتا ہے پیار کا رشتہ کہتے ہیں دنیا کس کی اپنی ہے اہل دنیا کہتے ہیں اے دل یہ در ماندگیاں تجھ کو دریا کہتے ہیں اپنا سا بس لگتا ہے جس کو اپنا کہتے ہیں لوٹنے والے! دیر نہ کر لوٹ کے لے جا کہتے ہیں گوہرؔ لوگ تو بات نہیں بات کا سہرا کہتے ہیں
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ ان کو دل دے کے پشیمانی ہے
ان کو دل دے کے پشیمانی ہے یہ بھی اک طرح کی نادانی ہے وصل سے آج نیا ہے انکار تم نے کب بات مری مانی ہے آپ دیتے ہیں تسلی کس کو ہم نے اب اور ہی کچھ ٹھانی ہے حال بن پوچھے کہے جاتا ہوں اپنے مطلب کی یہ نادانی ہے کس قدر بار ہوں غم خواروں پر کیا سبک میری گراں جانی ہے گھر بلا کر وہ مجھے لوٹتے ہیں یہ نئی طرح کی مہمانی ہے ہم سے وحشت کی نہ لے او مجنوں ہم نے بھی…
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ دل میں ہیں وصل کے ارمان بہت
دل میں ہیں وصل کے ارمان بہت جمع اس گھر میں ہیں مہمان بہت آئے تو دست جنوں زوروں پر چاک کرنے کو گریبان بہت میری جانب سے دل اس کا نہ پھرا دشمنوں نے تو بھرے کان بہت لے کے اک دل غم کونین دیا آپ کے مجھ پہ ہیں احسان بہت ترک الفت کا ہمیں کو ہے غم وہ بھی ہیں دل میں پشیمان بہت دل کے ویرانے کا ہے عالم کچھ اور ہم نے دیکھے ہیں بیابان بہت خاک ہونے کو ہزاروں حسرت خون ہونے کو ہیں…
Read Moreمحمد علوی … اچھے دن کب آئیں گے
اچھے دن کب آئیں گے کیا یوں ہی مر جائیں گے اپنے آپ کو خوابوں سے کب تک ہم بہلائیں گے بمبئی میں ٹھہریں گے کہاں دلی میں کیا کھائیں گے کھلتے ہیں تو کھلنے دو پھول ابھی مرجھائیں گے کتنی اچھی لڑکی ہے برسوں بھول نہ پائیں گے موت نہ آئی تو علویؔ چھٹی میں گھر جائیں گے
Read Moreگوہرہوشیارپوری ۔۔۔ دریا میں یہ ناؤ کس طرف ہے … गौहर होशियारपुरी
دریا میں یہ ناؤ کس طرف ہے پانی کا بہاؤ کس طرف ہے یہ راہ کدھر کو مڑ رہی ہے لوگوں کا لگاؤ کس طرف ہے منزل کہاں تاکتے ہیں راہی تکتے ہیں پڑاؤ کس طرف ہے تاثیر کہاں گئی سخن سے جذبوں کا الاؤ کس طرف ہے آواز کہیں بلا رہی ہے یاروں کا رجھاؤ کس طرف ہے تصویر دکھا رہی ہے کیا کچھ رنگوں کا رچاؤ کس طرف ہے کھوئے ہوئے تم کہاں ہو گوہرؔ دل کا یہ کھچاؤ کس طرف ہے
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ عجب زمانے کی گردشیں ہیں خدا ہی بس یاد آ رہا ہے
عجب زمانے کی گردشیں ہیں خدا ہی بس یاد آ رہا ہے نظر نہ جس سے ملاتے تھے ہم وہی اب آنکھیں دکھا رہا ہے بڑھی ہے آپس میں بد گمانی مزہ محبت کا آ رہا ہے ہم اس کے دل کو ٹٹولتے ہیں تو ہم کو وہ آزما رہا ہے گھر اپنا کرتی ہے نا امیدی ہمارے دل میں غضب ہے دیکھیو یہ وہ مکاں ہے کہ جس میں برسوں امیدوں کا جمگھٹا رہا ہے بدل گیا ہے مزاج ان کا میں اپنے اس جذب دل کے صدقے وہی…
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ منہ مرا ایک ایک تکتا تھا
منہ مرا ایک ایک تکتا تھا اس کی محفل میں میں تماشا تھا ہم جو تجھ سے پھریں خدا سے پھریں یاد ہے کچھ یہ قول کس کا تھا وصل میں بھی رہا فراق کا غم شام ہی سے سحر کا کھٹکا تھا اپنی آنکھوں کا کچھ قصور نہیں حسن ہی دل فریب اس کا تھا فاتحہ پڑھ رہے تھے وہ جب تک میری تربت پر ایک میلا تھا نامہ بر نامہ جب دیا تو نے کچھ زبانی بھی اس نے پوچھا تھا اب کچھ اس کا بھی اعتبار نہیں…
Read More