جاتی رت سے پیار کرو گے کر لو بات ادھار کرو گے تب مل کر احسان کیا تھا اب مل کر ایثار کرو گے جتنے خواب اتنی تعبیریں کتنے داغ شمار کرو گے اے انکار کے خوگر لوگو اور بھی کوئی وار کرو گے اس کے نام کو ناؤ بنا کر پیاسوں کو سرشار کرو گے فرض کرو ہم مر نہ سکے تو جینے سے انکار کرو گے فرض کرو ہم ہار گئے تو قبر کہاں تیار کرو گے
Read Moreمحمد علوی मुहम्मद अलवी
پہلا پھول کھلا تھا دل میں لہو میں خوشبو دوڑ گئی تھی पहला फूल खिला था दिल मेंलहू में ख़ुशबू दौड़ गई थी
Read Moreگوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ متاع عشق ذرا اور صرف ناز تو ہو ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
متاع عشق ذرا اور صرف ناز تو ہو تضیع عمر کا آخر کوئی جواز تو ہو بہم دگر کوئی شب اس سے لب بہ لب تو چلے ہوائے شوق کچھ آلودۂ مجاز تو ہو قدم قدم کوئی سایہ سا متصل تو رہے سراب کا یہ سر سلسلہ دراز تو ہو وہ کم سخن نہ کم آمیز پھر تکلف کیا کچھ اس سے بات تو ٹھہرے کچھ اس سے ساز تو ہو وفا سے منزل ترک وفا تک آ نکلے کسی بہانے تو پتھر کبھی گداز تو ہو شفق کنایۂ لب…
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ اک لڑکا تھا اک لڑکی تھی
اک لڑکا تھا اک لڑکی تھی آگے اللہ کی مرضی تھی پہلا پھول کھلا تھا دل میں لہو میں خوشبو دوڑ گئی تھی پہلا سانس لیا تھا سکھ کا پہلی بار ہوا اک چلی تھی اب کیا جانیں لیکن پہلے چاند پہ اک بڑھیا رہتی تھی یہ بازار کہاں تھا پہلے یہاں تو پہلے ایک گلی تھی پانی میں بجلی کا گھر تھا پتھر میں چنگاری چھپی تھی
Read Moreگوہر ہوشیار پوری ۔۔۔ ہے جو بھی جزا سزا عطا ہو ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
ہے جو بھی جزا سزا عطا ہو ہونا ہے جو آج برملا ہو اس دن بھی جو سر پہ دھوپ چمکی جس دن پہ بہت فریفتہ ہو اس رات بھی نیند اگر نہ آئی جس رات پہ اس قدر فدا ہو رنگوں میں وہی تو رنگ نکلا جو تیری نظر میں جچ گیا ہو پھولوں میں وہی تو پھول ٹھہرا جو تیرے سلام کو کھلا ہو اک شخص خدا بنا ہوا ہے کیا ہو جو یہی مرا خدا ہو سوگند مجھے غزل کی گوہرؔ میں نے جو زباں سے کچھ…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ راگنیوں سے بے بہرہ سُر تالوں جیسے
راگنیوں سے بے بہرہ سُر تالوں جیسے کام مرے، کانٹوں میں اُلجھے بالوں جیسے دھڑکن دھڑکن بے تابی ہے اور جیون کے لمحے بوجھل قدموں، ٹھِٹھرے سالوں جیسے اندر بعض گھروں میں سیم و زر کی بارش باہر کے احوال سبھی کنگالوں جیسے دھُند سے نکلے کیونکر پار، مسافت اُن کی رہبر جنہیں میّسر ہوں، نقّالوں جیسے اپنے ہاں کے حبس کی بپتا بس اتنی ہے آنکھوں آنکھوں اشک ہیں ماجدؔ چھالوں جیسے
Read Moreگوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ دکھی دلوں میں، دکھی ساتھیوں میں رہتے تھے ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
دکھی دلوں میں، دکھی ساتھیوں میں رہتے تھے یہ اور بات کہ ہم مسکرا بھی لیتے تھے وہ ایک شخص برائی پہ تل گیا تو چلو سوال یہ ہے کہ ہم بھی کہاں فرشتے تھے اور اب نہ آنکھ نہ آنسو نہ دھڑکنیں دل میں تمہی کہو کہ یہ دریا کبھی اترتے تھے جدائیوں کی گھڑی نقش نقش بولتی ہے وہ برف بار ہوا تھی، وہ دانت بجتے تھے اب ان کی گونج یہاں تک سنائی دیتی ہے وہ قہقہے جو تری انجمن میں لگتے تھے وہ ایک دن کہ…
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ زمین لوگوں سے ڈر گئی ہے
زمین لوگوں سے ڈر گئی ہے سمندروں میں اتر گئی ہے خموشیوں میں صدا گجر کی خیال کے پر کتر گئی ہے کھڑے ہیں بے برگ سر جھکائے ہوا درختوں کو چر گئی ہے ہمیں تو نیند آئے گی نہ لیکن یہ رات بھی تو ٹھہر گئی ہے کہاں بھٹکتے پھرو گے علویؔ سڑک سے پوچھو کدھر گئی ہے
Read Moreگوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ سر پر کوئی آسمان رکھ دے ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
سر پر کوئی آسمان رکھ دے اک منہ میں مگر زبان رکھ دے آ صلح نہیں سلام تو لے یہ تیر چڑھی کمان رکھ دے اتنا بھی نہ بے لحاظ ہو جا تھوڑا سا تو خوش گمان رکھ دے تجھ کو تری حکمتیں مبارک اک ہاتھ پہ اک جہان رکھ دے پھر ہم کو گدائے رہ بنا کر رہ میں کوئی امتحان رکھ دے تفصیل کہیں گراں نہ پڑ جائے اک حرف میں داستان رکھ دے اب دھیان کی بات چھڑ گئی تو کچھ اس سے الگ بھی دھیان رکھ…
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ اسے نہ دیکھ کے دیکھا تو کیا ملا مجھ کو
اسے نہ دیکھ کے دیکھا تو کیا ملا مجھ کو میں آدھی رات کو روتا ہوا ملا مجھ کو ترا نہ ملنا عجب گل کھلا گیا اب کے ترے ہی جیسا کوئی دوسرا ملا مجھ کو کل ایک لاش ملی تھی مجھے سمندر میں اسی کی جیب سے تیرا پتا ملا مجھ کو بہت ہی دور کہیں کوئی بم گرا تھا مگر مرا مکان بھی جلتا ہوا ملا مجھ کو مری غزل تھی پہ علویؔ کا نام تھا اس پر غزل پڑھی تو انوکھا مزا ملا مجھ کو
Read More