یہاں کون اس کے سوا رہ گیا زمانہ گیا آئنہ رہ گیا وہ حسن سراپا وہ حسن آفریں مگر ہر کوئی دیکھتا رہ گیا چلو کیا ہوا روشنی ہی تو تھی یہاں دیکھنے کو بھی کیا رہ گیا ہماری کچھ اپنی روایت بھی تھی کتابوں میں لکھا ہوا رہ گیا خدائی کو بھی ہم نہ خوش رکھ سکے خدا بھی خفا کا خفا رہ گیا مقدر کہیں کج کلاہی کرے کوئی گھر میں محو دعا رہ گیا کہیں ایک چپ بھی رسا ہو گئی کوئی بولتا بولتا رہ گیا
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ ناحق پہ بھی لاریب گھڑی آئے گی کچھ اور
ناحق پہ بھی لاریب گھڑی آئے گی کچھ اور خاموشیِ وجدان، خبر لائے گی کچھ اور جیسے کسی قیدی کو جنم دِن کا حوالہ پنجرے میں صبا جھانک کے تڑپائے گی کچھ اور صرصر نے جو دھارا ہے نیا روپ صبا کا یہ فاحشہ ابدان کو سہلائے گی کچھ اور کہہ لو اُسے تم رقص پہ طوفانِ بلا میں کمزور ہے جو شاخ وہ لہرائے گی کچھ اور وہ آنکھ جسے دھُن ہے فروغِ گلِ تر کی موسم ہے گر ایسا ہی تو شرمائے گی کچھ اور نکلی ہی نہیں…
Read Moreگوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ مرحلہ طے کوئی بے منت جادہ بھی تو ہو ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
مرحلہ طے کوئی بے منت جادہ بھی تو ہو غم بڑھے بھی تو سہی درد زیادہ بھی تو ہو ایسی مشکل تو نہیں دشت وفا کی تسخیر سر میں سودا بھی تو ہو دل میں ارادہ بھی تو ہو ذہن کا مشورۂ ترک طلب بھی برحق ذہن کی بات قبول دل سادہ بھی تو ہو کہیں بادل کہیں سورج کہیں سایہ کہیں دھوپ مرے معبود ترا کوئی لبادہ بھی تو ہو پیار میں کم تو نہیں کم نگہی بھی اس کی ہاں تنک ظرفیٔ احساس کشادہ بھی تو ہو عاشقی…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ فصیلوں پر سحر، صحنوں میں شب ہے
فصیلوں پر سحر، صحنوں میں شب ہے ہمارے شہر کا موسم عجب ہے وہ دیکھو ماہِ رخشاں بادلوں سے لپٹ کر کس قدر محوِ طرب ہے پئے عرفانِ منزل، گمرہوں کو کہیں ہم جو بھی کچھ، لہو و لعب ہے کچھار اپنی بنا لو حفظِ جہاں کو نگر میں اب یہی جینے کا ڈھب ہے ہمارے ہی لئے کیوں ایک ماجد مزاجِ دہر میں رنج و تعب ہے
Read Moreمحمود کیفی ۔۔۔ رنج و آلام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا
رنج و آلام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا میں تِرے دام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا اب کوئی کام محبت کے سِوا مُجھ کو نہیں اب اگر کام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا جپ رہا ہُوں یہ تِرا نام تو میں زِندہ ہُوں میں تِرے نام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا میرے ہونے کی علامت ہے فلک پر یہ شفق منظرِ شام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا منظرِ عام پہ آنے سے یہ اِحساس ہُوا منظرِ عام سے نِکلوں گا…
Read Moreگوہر ہوشیار پوری ۔۔۔ شاعری بات نہیں گرم سخن ہونے کی … गौहर होशियारपुरी
شاعری بات نہیں گرم سخن ہونے کی شرط ہی اور ہے شائستۂ فن ہونے کی میں کہ ہر دم مجھے بالیدگیٔ روح کی فکر روح کو فکر ہے وارستۂ تن ہونے کی رم بہ رم سلسلۂ موج غزالان خیال دشت غربت کو بشارت ہو وطن ہونے کی پرتو رنگ سے گلگوں ہوا معمورۂ چشم دھوم ہے کوئے تماشا کے چمن ہونے کی حق پرستی کو یہاں کون ہے آمادۂ دار کس کو توفیق ہے بے گور و کفن ہونے کی یا بچے گا نہ سحر تک کوئی درماندۂ شب یا…
Read Moreشاہنواز زیدی ۔۔۔ آنکھ پھر تیرے خواب سے بھر لوں
آنکھ پھر تیرے خواب سے بھر لوں یہ پیالہ سراب سے بھر لوں پھر شبِ ہجر آنے والی ہے روشنی آفتاب سے بھر لوں کس لئے طالبِ ثواب بنوں سر حساب و کتاب سے بھر لوں کامیابی کی راہ پر نکلوں زندگی اضطراب سے بھر لوں کیسے تجدید کار عشق کروں روز و شب پھر عذاب سے بھر لوں کیسے مانوں رحیم کو جابر جام کو اجتناب سے بھر لوں ہاتھ پھیلاؤں گا دعا کے لئے پہلے چلّو شراب سے بھر لوں
Read Moreگوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ بندوں کا مزاج ہم نے دیکھا ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
بندوں کا مزاج ہم نے دیکھا کیا کچھ نہیں آج ہم نے دیکھا ہلتے ہوئے تخت کو سنبھالو گرتا ہوا تاج ہم نے دیکھا جیتے تو خوشی سے مر نہ جاتے کس شخص کا راج ہم نے دیکھا کیا کیا نہ ترس ترس گئے ہم کیا کیا نہ سماج ہم نے دیکھا روئے ہیں تو لوگ رو پڑے ہیں اب کے تو رواج ہم نے دیکھا گوہرؔ کو سلام شوق پہنچے کچھ کام نہ کاج ہم نے دیکھا
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ شاہیں پہ بندھ رہا تھا نشانہ، کمان کا
شاہیں پہ بندھ رہا تھا نشانہ، کمان کا خیمہ مگر اُڑا کسی چڑیا کی جان کا آئے گی کب، کہاں سے، نجانے نمِ یقیں ہٹتا نہیں نظر سے بگولا گمان کا اونچا اُڑا، تو سمتِ سفر کھو کے رہ گئی رُخ ہی بدل گیا، مری سیدھی اُڑان کا کیا جانیے، ہَوا کے کہے پر بھی کب کھلے مشتِ خسیس سا ہے چلن، بادبان کا ہم پَو پَھٹے بھی، دھُند کے باعث نہ اُڑ سکے یوں بھی کھُلا کِیا ہے، عناد آسمان کا ماجدؔ نفس نفس ہے گراں بار اِس طرح…
Read Moreگوہر ہوشیارپوری ۔۔۔ یہ صحرائے طلب یا بیشۂ آشفتہ حالی ہے ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी
یہ صحرائے طلب یا بیشۂ آشفتہ حالی ہے کوئی دریوزہ گر اپنا کوئی تیرا سوالی ہے حوادث سے نبرد آرائیوں کا کس کو یارا تھا جنوں اپنا سلامت جس نے ہر افتاد ٹالی ہے ترے اغماض کی خو سیکھ لی اہل مروت نے کہ محفل درد کی اب صاحب محفل سے خالی ہے حضوری ہو کہ مہجوری محبت کم نہیں اس سے تب اپنا بخت عالی تھا اب اپنا ظرف عالی ہے نمو کا جوش کچھ نظارہ فرما ہو تو ہو ورنہ بہار اب کے برس خود پائمال خشک سالی…
Read More