جوش ملیح آبادی ۔۔۔ کوئی دارائے جاں ہے کیا معلوم

کوئی دارائے جاں ہے کیا معلوم یا فقط داستاں ہے کیا معلوم کیا حدودِ یقیں میں ہے خلاق یا سراسر گماں ہے کیا معلوم آرزو تھی خدا کو یا حاجت کیوں وجودِ جہاں ہے کیا معلوم لہو یا خود میں نقص کا احساس علتِ انس و جاں ہے کیا معلوم اضطراراً کہ بعدِ فکرِ دقیق خلعت‌ِ ایں و آں ہے کیا معلوم کس لئے کس طرف بہر ساعت رخشِ ہستی رواں ہے کیا معلوم کس خلائے نظر کے بھرنے کو یہ زمیں آسماں ہے کیا معلوم ہے کہیں آفتابِ ذات…

Read More

ایوب خاور ۔۔۔ ہر دل عزیز امجد اسلام امجد کے لیے

اے پیارے امجد! ہمارے امجد! کہاں گئے ہو ہم اپنی اپنی روانیوں میں کہاں پہ پہنچے تم اپنی دھن میں کہاں چھپے ہو یہ کس سے پوچھیں تھکن سفر کی ہمارے پیروں سے دل تک آئی تو مڑ کے دیکھا مڑ کے دیکھا تو تم نہیں تھے ، کہاں چھپے ہو! اے پیارے امجد! ہمارے امجد سبھی کے امجد تم تو بھائی یہیں کہیں اس ہجومِ یاراں کے بیچ بیٹھے کوئی لطیفہ سنا رہے تھے نہ جانے کس شام کی اتھا میں اتر گئے ہو بھلا کوئی اس طرح بھی…

Read More

گوہر ہوشیار پوری ۔۔۔ ہے جو بھی جزا سزا عطا ہو ۔۔۔ गौहर होशियारपुरी

ہے جو بھی جزا سزا عطا ہو ہونا ہے جو آج برملا ہو اس دن بھی جو سر پہ دھوپ چمکی جس دن پہ بہت فریفتہ ہو اس رات بھی نیند اگر نہ آئی جس رات پہ اس قدر فدا ہو رنگوں میں وہی تو رنگ نکلا جو تیری نظر میں جچ گیا ہو پھولوں میں وہی تو پھول ٹھہرا جو تیرے سلام کو کھلا ہو اک شخص خدا بنا ہوا ہے کیا ہو جو یہی مرا خدا ہو سوگند مجھے غزل کی گوہرؔ میں نے جو زباں سے کچھ…

Read More

احمد جلیل ۔۔۔۔ رہتا ہے قربتوں کا وہ احساس ہر گھڑی ۔۔۔ अहमद जलील

رہتا ہے قربتوں کا وہ احساس ہر گھڑی وہ دور جا کے بھی ہے مرے پاس ہر گھڑی تنہا کٹیں گے کیسے یہ جیون کے راستے ڈستا ہے یہ جدائی کا احساس ہر گھڑی رہتی ہے اس کی خوشبو سے ہر لحظہ گفتگو بکھری ہے اس کی چاروں طرف باس ہر گھڑی مجھ سے خفا خفا ہیں یہ محفل کی رونقیں پیچھے پڑا ہے میرے یہ بن باس ہر گھڑی مایوسیوں کے گھور اندھیروں کے باوجود جگنو سی ٹمٹماتی ہے اک آس ہر گھڑی ہر لحظہ خیمہ زن ہے یہاں…

Read More

سرور فرحان ۔۔۔ کس نے آزادی کا مضموں لکھ دیا دیوار پر

کس نے آزادی کا مضموں لکھ دیا دیوار پر خون کے چھینٹے نظر آنے لگے دستار پر آ ہی جاتی ہیں لبوں پر دل میں پنہاں تلخیاں جتنی بھی پابندیاں عائد رہیں اظہار پر زندگی میں اور بھی ہیں کام، اے جانِ غزل! یہ نظر رہتی نہیں پیہم لب و رخسار پر سچ کہا تو داد دینے کے لیے کوئی نہ تھا جھوٹ جب بولا تو شہ سرخی بنا اخبار پر عشق کو تو ہر طرح ہے بے کلی کا سامنا وصل کے اقرار سے وہ آ گیا انکار پر…

Read More

ارشد محمود ارشد ۔۔۔ ہوائے سرد چلی ساتھ ہو لیا میں بھی

ہوائے سرد چلی ساتھ ہو لیا میں بھی مثالِ برگِ خزاں دیر تک اُڑا میں بھی کسی طرح سے تو ٹوٹے یہ تیرگی کا فسوں چراغ شب کو جلاتے ہوئے جلا میں بھی جدھر نگاہ پڑی ایک ہُو کا عالم تھا نجانے کونسے سگنل پہ رک گیا میں بھی سمے کی دھوپ نے جھلسا دیا مجھے ورنہ دکھائی دیتا تھا تجھ سا ہرا بھرا میں بھی بتا رہے ہو مجھے کون سی قیامت کا ہزار بار تو کرتا ہوں سامنا میں بھی گنوا کے زیست کی پونجی مجھے خیال آیا…

Read More

ثمینہ سید ۔۔۔ یہ تو بس وقت گزاری ہے محبت کیسی

یہ تو بس وقت گزاری ہے محبت کیسی خواب میں خواب دکھانے کی ضرورت کیسی تم کو معلوم ہے کس سمت ہوا کا رخ ہے پڑ گئی خاک اُڑانے کی ضرورت کیسی رات دن ایک کیے میں نے اسی مقصد میں اب مجھے دیکھ کے ہے آپ کو حیرت کیسی عشق ورثے میں کہاں ملتا ہے معلوم ہے یہ آپ کا حق ہے … محبت میں اجازت کیسی مدتوں بعد سنورتے ہوئے دیکھا … تو کہا اف… روایت سے نکل آتی ہے جدت کیسی شعر کا وزن تو قائم ہے…

Read More

امجد بابر ۔۔۔ گلوبل ورلڈ کے کمبل میں

گلوبل ورلڈ کے کمبل میں ۔۔۔۔ کوئی تو لپیٹ رہا ہے گلوبل ورلڈ کا کمبل کہیں سے نئے زمانے فضا میں اجنبی سی آہٹ ہمارے دل،ذہنوں میں خدشے گھولتی ہے ہم جو روایت اور اقدار سے جڑے معمولی ذرات سے بھی کمتر اپنے ہونے کی بے سود گواہی سے منحرف نجانے کتنے تجربات سینوں میں چھپائے مسلسل رائیگانی کے جلو میں چل رہے ہیں ابھی انسان بننے سے کوسوں دُور ہیں یہ دُنیا ہر لمحہ تبدیل ہونے کی کہانی ہے یہاں رنگوں کی بارش پھول موسم محبت کی ڈائری… سب…

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ زد پر جب اُس کی میں حدِ جاں سے گزر گی

زد پر جب اُس کی میں حدِ جاں سے گزر گیا دریا میں جتنا زور تھا پل میں اُتر گیا دیکھی جب اپنی ذات پہ آتی ذرا سی آنچ وہ بدقماش اپنے کہے سے مُکر گیا آخر کو کھینچ لایا وہ سورج سرِ افق جو جیش جگنوؤں کا بسوئے سحر گیا خود اُس کا اَوج اُس کے توازن کو لے اڑا نکلا ذرا جو حد سے تو سمجھو شجر گیا جس کو بقا کا راز بتانے گیا تھا میں سائل سمجھ کے وہ مری دستک سے ڈر گیا کربِ دروں…

Read More

ذکی طارق ۔۔۔ صفوں میں اپنی یہ کیوں انتشار باقی ہے

صفوں میں اپنی یہ کیوں انتشار باقی ہے دلوں میں لگتا ہے اب تک درار باقی ہے ملول کیوں ہے قیامت ابھی نہ آئے گی ابھی جہاں میں بہت سارا پیار باقی ہے تم آئے تو ہو بظاہر ہماری محفل میں مگر تمہارا ابھی انتظار باقی ہے یہ کیسے مان لیں ہے قحط سالی دنیا میں ہماری آنکھوں میں تو آبشار باقی ہے وبالِ جاں نہیں نعمت ہے مجھ کو بیماری تمہارے جیسا جو تیمار دار باقی ہے عجیب بات ہے ذکر ان کا ہو رہا ہے اور نظامِ گردشِ…

Read More