اپنے میں جو اب بھولے سے کبھی راحت کا تقاضا پاتا ہے حالات پہ میرے کر کے نظر دل مجھ سے بہت شرماتا ہے الجھن میں یکایک ہوتی ہے دم رکتا ہے دل بھر آتا ہے جب کوئی تسلی دیتا ہے کچھ اور بھی جی گھبراتا ہے آرام سرکنے والا ہے کس شے پہ یہ غرہ ہے تجھ کو دنیا یہ بدلنے والی ہے کس چیز پہ تو اِتراتا ہے اعلان سحر کو ہوتا ہے یوں حسن کی شاہنشاہی کا گردوں پہ سنہرا اک پرچم مشرق کی طرف لہراتا ہے…
Read Moreعاصم بخاری ۔۔۔ ذکر اچھا نہیں برائی کا
ذکر اچھا نہیں برائی کا تذکرہ تم کرو بھلائی کا چار دن کے بخاری جیون میں فائدہ کیا کسی ، لڑائی کا اس جوانی کے دور میں اکثر شوق ہوتا ہے خود نمائی کا اپنی سنتا تو کوئی کیا سنتا تیری جانب تھا رخ خدائی کا نوکری بھی ہے نوکری لیکن لطف اپنا ہے اک پڑھائی کا وقت نے بادشہ بنایا ہے پاس کچھ تو کرو خدائی کا جرم عاصم ہمارا تھا اتنا شکوہ ہم سے ہوا نہ بھائی کا
Read Moreزبیر خیالی ۔۔۔ تِیرگی بے لباس ، کمرے میں
تِیرگی بے لباس ، کمرے میں بن گئی ہے ہِراس کمرے میں قید احساسِ گل نہیں ہوتا پھیل جاتی ہے باس کمرے میں جو مُقَفَّل رہا یہ دَر یوں ہی گھر بنا لے گی گھاس کمرے میں نِصف شب ، خواب میں خیال ترا آگیا بے قیاس کمرے میں اِک دریچے سے جِھلملاتا ہے روشنی کا نِکاس کمرے میں لب تھے محروم لب کشائی سے جسم تھا بے حواس کمرے میں سانس تازہ ہَوا کا طالِب تھا حَبس آیا نہ راس کمرے میں گَرد آلود ہیں کتابیں سب مَر رہی…
Read Moreعقیل رحمانی ۔۔۔۔ گر ہے ہمت ظلم کے بازار پر اُنگلی اُٹھا
گر ہے ہمت ظلم کے بازار پر اُنگلی اُٹھا جو ڈبوئے خوں میں اُس دَستار پر اُنگلی اُٹھا شب کے رُخ پر روشنی کے ہاتھ سے تحریر لکھ حوصلہ کرکے ذرا دو چار پر اُنگلی اُٹھا پہلے اپنی گفتگو سے لفظ پتھریلے نکال پھر کسی کے لہجہ و گفتار پر اُنگلی اُٹھا راکھ کر دیتی ہیں یہ بارود کی بیساکھیاں اِن کے شعلوں میں چُھپے اَسرار پر اُنگلی اُٹھا ذہن میں رکھ لے یزیدِ ظُلم کے انجام کو پھر غلامِ حیدرِؓ کرار پر اُنگلی اُٹھا کیوں جلانا چاہتا ہے جسم…
Read Moreیعقوب پرواز ۔۔۔ دو غزلیں
یوں بہاروں کو سزا دیتے ہیں لوگ سبز شاخوں کو جلا دیتے ہیں لوگ تاکہ اک طوفاں اُٹھایا جا سکے بات کو کتنی ہوا دیتے ہیں لوگ اک اچھوتا وار کرنے کے لیے ہاتھ سے خنجر گرا دیتے ہیں لوگ مدعی کا خوں بھی لے لیتے ہیں سر کب کسی کو خوں بہا دیتے ہیں لوگ دیدنی ہے مصلحت کی انتہا مسئلے زندہ دبا دیتے ہیں لوگ پھاند کر پرواز سناٹے کی حد گاہے گاہے سر کٹا دیتے ہیں لوگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہنستے ہیں لوگ ہم سے ہی کیسا مذاق ہے…
Read Moreجیا قریشی ۔۔۔ رنگِ مزاجِ یار سے جو متصف نہ ہو
رنگِ مزاجِ یار سے جو متصف نہ ہو محبوب کیا جہان سے جو مختلف نہ ہو اوڑھی نہ ہو جو صبر و رضا کی بدن پہ شال بے شک محبتوں کا کبھی معترف نہ ہو یہ ذہن و دل کے سلسلے ملتے نہ ہوں جہاں ایسی گلی میں جا کے کبھی معتکف نہ ہو حاصل رسائی منزلِ دل تک نہ کر سکے دنیا کے قاعدوں سے اگر منحرف نہ ہو سمجھے گا یار خاک تقاضے وفائوں کے جس پر رضائے دل ہی جیا منکشف نہ ہو
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ یہ نصیبِ شاعری ہے زہے شانِ کبریائی
یہ نصیبِ شاعری ہے زہے شانِ کبریائی کہ ملے نہ زندگی بھر مجھے دادِ خوش نوائی بخدا عظیم تر ہے شہدا کے خون سے بھی مرے سینۂ قلم میں جو بھری ہے روشنائی یہ عجیب ماجرا ہے کہ خدیوِ ہفت قلزم طرف سراب دوڑے پئے قسمت آزمائی فلک اور اسے جھکائے سرِ منزل سفیہاں ملک آئیں جس کے در پر بہ ہوائے جبہ سائی چمنِ شعور نو کو جو لہو سے اپنے سینچے کبھی اس کو سکھ نہ بخشے کوئی پنجۂ حنائی ہمہ ساز ہوں بظاہر ہمہ سوز ہوں بہ…
Read Moreدانش عزیز ۔۔۔۔ تم پہ لازم ہے کہ ہر چال کو الٹا کھیلو
تم پہ لازم ہے کہ ہر چال کو الٹا کھیلو سامنے والا تو چاہے گا کہ آدھا کھیلو وصل کی شرط پہ شطرنج وہ ہاری تو کہا میں نہیں کھیلتی تم مجھ سے دوبارہ کھیلو کپکپاتی ہوئی پوروں کو سنبھالو اپنی موت کے کھیل کو اچھے سے مسیحا کھیلو اس لیے آج تلک جیت سے واقف نہیں میں حکم صادر تھا کہ ہر کھیل ہی تنہا کھیلو فائدہ کیا حدِ فاصل سے تجاوز کر کے ٍجتنا آتا ہے تمہیں کھیلنا اتنا کھیلو آخری سانس تلک ہجر نبھاؤ یارو جاں ہتھیلی…
Read Moreثمینہ سید ۔۔۔ میں زندگی ہوں
میں زندگی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ میں کہہ رہی ہوں مجھے نہ مارو میں زندگی ہوں مسافتوں کی میں دھول مٹی سے اٹ گئی ہوں میں مر رہی ہوں مگر تھا عزم صمیم میرا کہ منزلوں تک ہے مجھ کو جانا سو عزم و ہمت سے سوئے منزل میں جا رہی ہوں مجھے نہ روکو کہ مجھ کو شاید عداوتوں سے محبتیں ہیں ہے شدتوں سے نباہ میرا یہ غم ہے میرا کہ نفرتوں میں گھری ہوئی ہوں میں کہہ رہی ہوں مجھے نہ مارو میں زندگی ہوں اگر کسی کو گمان…
Read Moreمرزا آصف رسول ۔۔۔ فداک امی و ابی
نہ صرف حسن بہ ہر کیف و کم ہے تجھ پہ فدا ہے جو بھی عشق بہ شانِ اتم ہے تجھ پہ فدا نہ بس فداک ابی ، نے فداک امّی بس ہے اور بھی جو کوئی محترم ہے تجھ پہ فدا ہے بندگی تو وہی جس میں پیروی ہو تری کہ ہر ثواب و جزاء و کرم ہے تجھ پہ فدا طوافِ کعبہ و سعی و سجود و عمرہ و حج سبھی فدا ہیں حرم پر، حرم ہے تجھ پہ فدا تو شمعِ محفلِ یزداں تو رونقِ ہستی ہر…
Read More