گلزار بخاری ۔۔۔ بہار

بہار ۔۔۔۔۔۔ کبھی میں نے محبت کے پرندوں کی نوا سنجی سے گھر خالی نہیں دیکھا کہاں کس نے دوامی مہربانی کا ہنر عالی نہیں دیکھا رہے غافل گلستاں سے کوئی بیدار خو خالی نہیں دیکھا لگائو ہے لگن رب کی صفاتی دلبری جس کو سدا میں نے بروئے کار دیکھا ہے محبت کو بہار آثار دیکھا ہے

Read More

گلزار بخاری ۔۔۔۔ مسافتوں کا فلک ستارے کا منتظر ہے

مسافتوں کا فلک ستارے کا منتظر ہے سفر کا موسم ترے اشارے کا منتظر ہے اسی لیے ہم زباں پہ لائے ہیں ذکر تیرا بیان کا حسن استعارے کا منتظر ہے روا نہیں مصلحت پسندی تری طلب میں خلوص اپنے لیے خسارے کا منتظر ہے تری نظر کی تپش سے شعلے بھڑک نہ جائیں بدن کا ایندھن کسی شرارے کا منتظر ہے تلاش کرتے ہیں خواب تعبیر اپنی اپنی صدف گہر کا، سفینہ دھارے کا منتظر ہے تجھے تو گلزار پار کرنا تھا دوسروں کو مگر تو اپنے لیے کنارے…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔۔ نہ چھیڑ شاعر رباب رنگیں یہ بزم ابھی نکتہ داں نہیں ہے

نہ چھیڑ شاعر ربابِ رنگیں یہ بزم ابھی نکتہ داں نہیں ہے تری نواسنجیوں کے شایاں فضائے ہندوستاں نہیں ہے تری سماعت نگارِ فطرت کے لحن کی راز داں نہیں ہے وگرنہ ذرہ ہے کون ایسا کہ جس کے منہ میں زباں نہیں ہے اگرچہ پامال ہیں یہ بحریں مگر سخن ہے بلند ہمدم نہ دل میں لانا گمانِ پستی مری زمیں آسماں نہیں ہے ضمیرِ فطرت میں پر فشاں ہے چمن کی ترتیبِ نو کا ارماں خزاں جسے تو سمجھ رہا ہے وہ در حقیقت خزاں نہیں ہے حریمِ…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ سبو اٹھا کہ فضا سیم خام ہے ساقی

سبو اٹھا کہ فضا سیم خام ہے ساقی فرازِ کوہ پہ ماہِ تمام ہے ساقی چنے ہوئے ہیں پیالے جھکی ہوئی بوتل نیا قعود نرالا قیام ہے ساقی بہ ناز ِمغچگان و بہ فیض نعرۂ ہو ہمائے ارض و سما زیرِ دام ہے ساقی فضا پہ نہر پرافشانِ تابِ حور و طہور غنا میں شہرِ قصور و خیام ہے ساقی یہ کون شاہدِ مستی فروش و نغمہ نواز نفس کے تار پہ گرمِ خرام ہے ساقی نہ اسم و جسم نہ حرف و نفس نہ سایہ و نقل یہ کیا…

Read More

گلزار بخاری ۔۔۔ روش ہے سہل کہ دشوار دیکھ لیتے ہیں

روش ہے سہل کہ دشوار دیکھ لیتے ہیں سفر سے قبل ہی آثار دیکھ لیتے ہیں نگاہ دیکھتی ہے سامنے کے منظر کو شعور سے پسِ دیوار دیکھ لیتے ہیں مراد ، ذوق و طلب سے چھپی نہیں رہتی طیور شاخِ ثمردار دیکھ لیتے ہیں سوال ٹھیک نہیں ہر چراغ سے لَو کا دیا ہے کس کا ، طلب گار دیکھ لیتے ہیں خریدنے کے لیے کچھ گرہ میں ہو کہ نہ ہو گزر کے گرمیٔ بازار دیکھ لیتے ہیں تعلقات میں غفلت روا نہیں گلزار کسی سے کیا ہے…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ گلزار بخاری

کیا کیا ہیں گہر دامنِ بحرین میں دیکھیں اوصافِ نبی سیرتِ حسنین میں دیکھیں پوچھیں پرِ جبریل سے پرواز نبی کی معراج ہے کیا منزلِ قوسین میں دیکھیں ہو گا نہ جُدا شہر درِ علم سے ہر گز مضبوط ہے کیا ربط فریقین میں دیکھیں سایہ نہ ہو جس ذات کا ثانی ہو تو کیسے ایسا کوئی انسان ہے کونین میں دیکھیں ڈھونڈے نہ کہیں اور ملے گا وہیں گلزار ہاں بو ذر و سلمان کے نعلین میں دیکھیں

Read More

محمد نور آسی ۔۔۔ دل کا ہر رابطہ سمجھتے ہیں

دل کا ہر رابطہ سمجھتے ہیں ہم ترا دیکھنا سمجھتے ہیں اس لیے ہم برے ہیں بتلاؤ ہم برے کو برا سمجھتے ہیں ہم پرندوں کو ساتھ لے آئے جھیل کا مدعا سمجھتے ہیں عشق تھا ، صبر تھا کہ قربانی ہم کہاں کربلا سمجھتے ہیں وصل کیا ہے ؟ تمھیں نہیں معلوم! چل ، کسی روز آ ، سمجھتے ہیں قربتیں تو اسی کا پرتو ہیں ہم جسے فاصلہ سمجھتے ہیں لوگ منزل سمجھ کے بیٹھے ہیں ہم جسے راستہ سمجھتے ہیں تیرے قدموں کی لڑکھڑاہٹ کو ہم ،…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔۔ میری حالت دیکھیے اور ان کی صورت دیکھیے

میری حالت دیکھیے اور ان کی صورت دیکھیے پھر نگاہِ غور سے قانونِ قدرت دیکھیے سیرِ مہتاب و کواکب سے تبسم تابکے رو رہی ہے وہ کسی کی شمعِ تربت دیکھیے آپ اک جلوہ سراسر میں سراپا اک نظر اپنی حاجت دیکھیے میری ضرورت دیکھیے اپنے سامانِ تعیش سے اگر فرصت ملے بیکسوں کا بھی کبھی طرزِ معیشت دیکھیے مسکرا کر اس طرح آیا نہ کیجے سامنے کس قدر کمزور ہوں میں، میری صورت دیکھیے آپ کو لایا ہوں ویرانوں میں عبرت کے لیے حضرتِ دل دیکھیے اپنی حقیقت دیکھیے…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ رضااللہ حیدر

قسم خدا کی وہ حسن و جمال دلکش ہے نبی کے روضے کا منظر کمال دلکش ہے رسول اعظم و آخر کا خُلق قرآں ہے ہماری ماں نے جو دی ہے مثال دلکش ہے وہ جس کو سُن کے ملائک بھی وجد کرتے تھے وہی اذان میں طرزِ بلال دلکش ہے گرے گا اب درِ خیبر بھی اور مرحب بھی خُدا کے شیر علی کا جلال دلکش ہے ربیعہ مانگ رہے ہیں ہے حضور کی سنگت جواب اچھوں سے اچھا سوال دلکش ہے طریقِ ہجرتِ نبوی پہ چل کے جاؤں…

Read More

محمود کیفی ۔۔۔ ایک فِرقے سے نِکل کر جو گیا دوسرے میں

ایک فِرقے سے نِکل کر جو گیا دوسرے میں اِک کُنویں سے وہ نِکل کر ہے گِرا دوسرے میں باغِ دِل میں کبھی اپنے یہ کلی کِھلنے نہ دی ہم نے ڈھونڈی ہے ہمیشہ ہی وفا دوسرے میں ہم گریبان میں اپنے نہیں دیکھا کرتے ہم کو آتی ہے نظر ساری خطا دوسرے میں اپنی خامی بھی نہیں مانتے ناکامی پر یہ نہیں دیکھتے ہم خُوبی ہے کیا دوسرے میں مذہبی لوگ ہیں ہم اور یہی جانتے ہیں اِک جہاں میں ہے فنا اور بقا دوسرے میں ایک ہی وقت…

Read More