طاہر ناصر علی ۔۔۔ دل فسردہ بہ چشمِ تر آئے

دل فسردہ بہ چشمِ تر آئے چھوڑ کر ہم بھی اپنا گھر آئے ایسا لگتا تھا کر رہے ہوں وداع راہ میں جو گھنے شجر آئے یاد کرتے ہوئے اُسے آخر اُس کے کوچے سے ہم گزر آئے جس کو دیکھو وجود میں اپنے تنہا تنہا یہاں نظر آئے شیشۂ اعتبار کیا ٹُوٹا دل کی مسند سے ہم اُتر آئے جس سے آئیں نئی نئی چیزیں تھے پرانے جو گھر نکھر آئے آسماں اشکبار ہوتا ہے دل کی آہوں میں جب اثر آئے ہو گئے دُور ایک لمحے میں ساتھ…

Read More

محمد ارشاد ۔۔۔۔ رباعیات

بہتی پوشاک بہتی چھوڑے گی کیا یا اپنی طرف لپک کے موڑے گی کیا قابض ہیں گھاٹ پر اُٹھائی گیرے ننگی دھوئے گی کیا نچوڑے گی کیا اے زاہدِ گوشہ گیرہاں اے مزدور اللہ سے لو اور اس کے بندوں سے نفور کیا مُزدِ عبادات یہی ہے کہ ملے دنیا میں پری وگرنہ جنت میں حور اے تُو کہ تری معاش ہے طُرفہِ معاش گُم ڈھیر میں بھُس کے ایک نخمِ خشخاش مت ڈھونڈ خدا کو لامکانی ہے خدا گُم تُو ہے خدا نہیں ہے کر خود کو تلاش ہوتی…

Read More

شبہ طراز ۔۔۔ ایک بے چینی مرے دِل کو لگی رہتی ہے

ایک بے چینی مرے دِل کو لگی رہتی ہے ایسا لگتا ہے کہیں کوئی کمی رہتی ہے وقت بھی راکھ ہوا ، خاک ہوئی اس کی لگن کوئی چنگاری مگر دِل میں دبی رہتی ہے تیرے آ جانے کی ساعت نہ کہیں کھو بیٹھوں سوتے سوتے بھی مری آنکھ کھُلی رہتی ہے آئنہ خانے میں اب میَں نہیں تُو بستا ہے تیرے ہونے سے مرے گھر میں خوشی رہتی ہے راستے اب بھی ترے واسطے بچھ رہتے ہیں اور منڈیروں پہ تری یاد جلی رہتی ہے آتا ہے جب بھی…

Read More

طالب انصاری ۔۔۔ ایسا نہیں کہ اس کی محبت نہیں ملی

ایسا نہیں کہ اس کی محبت نہیں ملی جی کا ملال ، روح کی راحت نہیں ملی صد شکر غم نے رکھ لی مری زندگی کی لاج خوش ہو کے جی لوں ایسی سہولت نہیں ملی میری بھی آرزو تھی کہ دل کھول کے ہنسوں لیکن ترے غموں سے اجازت نہیں ملی رخسارِ یار پر نہیں تمثیلِ گل روا پھولوں کو اس قدر تو صباحت نہیں ملی برسوں کے بعد دیکھا جو سوئے دیارِ دل کوئی وہاں پرانی عمارت نہیں ملی ہر رات مجھ کو لوٹ کے آنا پڑا ہے…

Read More

ظہور چوہان ۔۔۔ اوّلیں اور آخری تنہا

اوّلیں اور آخری تنہا صاحبو ! ایک ہے ’’علی‘‘ تنہا رنگ سب اُڑ گئے ہَواؤں میں پھر تری یاد رہ گئی تنہا تیرگی میں بھی ہے شعاع ِ اُمید اِتنے غم اور اِک خوشی تنہا اُن مکانوں میں پھول کِھلتے ہیں دیکھتا ہے اُنہیں کوئی تنہا اُس سے بچھڑا تو پھر سمجھ آئی کیسے ہوتا ہے آدمی تنہا لوگ سب اپنے کام کاج میں گْم ہوتی جاتی ہے زندگی تنہا سب کو تنہائی سے بچانے لگا اور پھر ہو گیا وہی تنہا میرے چاروں طرف اندھیرا ہے بس یہاں پر…

Read More

طلعت شبیر ۔۔۔ دنیا دار

دنیا دار ۔۔۔۔۔ آنکھوں میں  جلوہ کناں چاہت اِخلاص کی ساری حدت اِحساس کا تمام وزن جذبوں کے سارے پرتو جب میں نے جنون کے میزان پر رکھے تو تمہارا پلڑا بھاری تھا کہ تم نے ٹوٹ کر محبت کی اور میں احتیاط کے کرب میں اُلجھا صرف دُنیاداری کرسکا

Read More

گلزار بخاری ۔۔۔ رباعیات

کہہ دو دل و جاں سے کہ احد ہے اللہ محتاج کہاں ہے کہ صمد ہے اللہ اس کی احدیت پہ گواہی دیکھیں والد ہے کسی کا نہ ولد ہے اللہ ۔۔۔۔۔ دل سے نہ کسی شخص کے جُوفہ نکلا یہ ایک نیا اور شگوفہ نکلا ظاہر میں دکھائی دیا مگر لیکن اندر سے ہر اک شخص ہی کوفہ نکلا ۔۔۔۔۔۔ لب مدحتِ رحمن کرے مشکل ہے دشواریاں آسان کرے مشکل ہے کس طور سے جانے کوئی قاتل کا دوام اندازہ یہ انسان کرے مشکل ہے ۔۔۔۔ مت بھاگ یونہی…

Read More

گلزار بخاری ۔۔۔ ڈیم

ڈیم ۔۔۔۔ اگر آبی ذخیرے جابجا ہوتے وسائل کی بقا ہوتے کوئی پانی کا ریلا سیل یا طوفان کیوں بنتا زمینوں کے لیے نقصان کیوں بنتا مویشی اور بندے ڈوب کر مرتے نہ لہروں میں پریشاں اس قدر ہر سوچ کا انسان کیوں بنتا ہزاروں ڈیم پبلک کی مدد سے رات دن تعمیر ہوتے ہیں طلاطم کے لیے ناقابلِ تسخیر ہوتے ہیں کمی بجلی کی پیش آتی نہ کوئی کارخانہ بندشوں کا سامنا کرتا تھپیڑے آزمائش کے مسلسل ارتقا ہوتے اگر آبی ذخیرے جابجا ہوتے

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ للہ الحمد کہ دل شعلہ فشاں ہے اب تک

للہ الحمد کہ دل شعلہ فشاں ہے اب تک پیر ہے جسم مگر طبع جواں ہے اب تک برف باری ہے مہ و سال کی سر پر لیکن خون میں گرمئ پہلوئے بتاں ہے اب تک سر پہ ہر چند مہ و سال کا غلطاں ہے غبار فکر میں تاب و تبِ کاہکشاں ہے اب تک کب سے نبضوں میں وہ جھنکار نہیں ہے پھر بھی شعر میں زمزۂ آبِ رواں ہے اب تک للہ الحمد کہ دربارِ خرابات کی خاک سرمۂ دیدۂ صاحب نظراں ہے اب تک زندگی کب…

Read More

گلزار بخاری ۔۔۔۔ راستی کا سفر

راستی کا سفر ۔۔۔۔۔۔۔۔ سچ ہے زورآوروں کے پہرے میں سامنے کس طرح کی بستی ہے سرنگوں شر کے سامنے دیکھی زندگی خیر کو ترستی ہے جرم سے پیشتر سزا کا نفاذ ہے یہ پہچان کس قبیلے کی خود پرستی کے اس خرابے میں جرم ہے آئنہ دکھانا بھی جاں کریں تجھ پہ ہم فدا لیکن تو اسیر ایسے موسموں میں ہوا جب ہے انصاف خود کٹہرے میں

Read More