آفتاب خان ۔۔۔ دو غزلیں

نہ آدمی پہ خدا کی زمین تنگ کرو اگر ہو جنگ ضروری ، ضرور جنگ کرو جمی ہوئی ہے سیاہی طویل مُدّت سے کبھی تو دِل کے مکاں پر سفید رنگ کرو حیات جس نے گزاری ہے بندگی میں سدا نہ ہمکنار اُسے دستِ تیغ و سنگ کرو ہے جس پہ عُمر بِتانی ، چُنو وہی بستر جو نیند بخشے ، وہی منتخب پلنگ کرو عقیدتوں کی بَلندی پہ لوگ رشک کریں دھمال ناز کرے ، خود کو یوں ملنگ کرو جو لوگ بابِ تحیّرکی سمت جا نہ سکے اُنھیں…

Read More

آفتاب خان ۔۔۔ وہ جس کی لگائی ہوئی ہر شرط کڑی ہے

وہ جس کی لگائی ہوئی ہر شرط کڑی ہے اُس حسنِ بَلاخیز سے یہ آنکھ لڑی ہے کہنے کو بہت کم ہے ہتھیلی پہ حِنا رنگ انگشت مگر اُس کی نگینے سے جڑی ہے نِت روز تماشا کرے خلقت سرِ بازار اور زیست کسی چوک میں حیران کھڑی ہے فرما دیا جو مَیں نے حقیقت ہے وہی بس ہاں دُکھ ہے یہی ، خلقِ خدا ضد پہ اڑی ہے ویسے تو سرِ بزم دکھائی نہ دیں آنسُو پلکوں کے دوروں خانہ تو ساون کی جھڑی ہے اولاد کا ہے فرض…

Read More

آفتاب خان ۔۔۔ ہونٹ جُنبش نہ کریں، آنکھ میں پانی ہی نہ ہو

ہونٹ جُنبش نہ کریں، آنکھ میں پانی ہی نہ ہو کیسے ممکن ہے بیاں ، دِل کی کہانی ہی نہ ہو سُست قدموں سے رواں ہے جو سُوئے موجِ رواں اُس نے گنگا میں کہیں راکھ بہانی ہی نہ ہو جس کے کاندھوں پہ کئی صدیوں کا ہے بوجھ لدا اُس نے یہ لاش کہیں اور دبانی ہی نہ ہو موم اور دھاگے اُٹھائے وہ چلا آیا ہے پھر سرِبزم کوئی شمع جلانی ہی نہ ہو بَن سنور کر جو نکل آئے ترے شہر کی سمت ہم نے اِس دشت…

Read More