وہ جس کی لگائی ہوئی ہر شرط کڑی ہے اُس حسنِ بَلاخیز سے یہ آنکھ لڑی ہے کہنے کو بہت کم ہے ہتھیلی پہ حِنا رنگ انگشت مگر اُس کی نگینے سے جڑی ہے نِت روز تماشا کرے خلقت سرِ بازار اور زیست کسی چوک میں حیران کھڑی ہے فرما دیا جو مَیں نے حقیقت ہے وہی بس ہاں دُکھ ہے یہی ، خلقِ خدا ضد پہ اڑی ہے ویسے تو سرِ بزم دکھائی نہ دیں آنسُو پلکوں کے دوروں خانہ تو ساون کی جھڑی ہے اولاد کا ہے فرض…
Read MoreTag: Aftab Khan's writings
آفتاب خان ۔۔۔ ہونٹ جُنبش نہ کریں، آنکھ میں پانی ہی نہ ہو
ہونٹ جُنبش نہ کریں، آنکھ میں پانی ہی نہ ہو کیسے ممکن ہے بیاں ، دِل کی کہانی ہی نہ ہو سُست قدموں سے رواں ہے جو سُوئے موجِ رواں اُس نے گنگا میں کہیں راکھ بہانی ہی نہ ہو جس کے کاندھوں پہ کئی صدیوں کا ہے بوجھ لدا اُس نے یہ لاش کہیں اور دبانی ہی نہ ہو موم اور دھاگے اُٹھائے وہ چلا آیا ہے پھر سرِبزم کوئی شمع جلانی ہی نہ ہو بَن سنور کر جو نکل آئے ترے شہر کی سمت ہم نے اِس دشت…
Read More