گھر کہیں بھی نہیں ، کوئی بھی نہیں سب گلی کا گمان ہے سائیں
Read MoreTag: شاہین عباس کی غزل
شاہین عباس
سننے والوں میں اِتنا پردہ ہے کوئی سنتا نہیں کسی کا شور
Read Moreشاہین عباس
ایک شکن وصال کی ، ایک شکن فراق کی سلوٹیں پڑ گئیں ہیں دو ، جامۂ دستیاب میں
Read Moreشاہین عباس
ایک لکیر شام کی، کہتی تھی درمیاں کی بات خلقِ خدا کا ایک دن، باقی ہیں سب خدا کے دن
Read Moreشاہین عباس
تیرے ہاتھوں جل اُٹھے ہم، تیرے ہاتھوں جل بجھے ہوتے ہوتے آگ اور پانی کا اندازہ ہو ا
Read Moreشاہین عباس
اوپر جو پرند گا رہا ہے نیچے کا مذاق اڑا رہا ہے
Read Moreشاہین عباس
یہ وقت کا خاص آدمی تھا بے وقت جو گھر کو جا رہا ہے
Read Moreشاہین عباس
عمر بھر ہم نے فنا کے تجربے خو د پر کئے عمر بھر میں عالمِ فانی کا اندازہ ہوا
Read Moreشاہین عباس
شہر میں داخلے کی شرط ، جسم نہیں تھا ، روح تھی جسم کا جسم رکھ دیا ،سر سے کہیں اتار کر
Read Moreشاہین عباس
اپنی آوازوں کو چپ رہ کر سنا تب کہیں جا کر یہ ز یر و بم بنے
Read More